قصوروار کون؟

  • پی ڈی ایف

qasoorwarحال سے لا تعلق ہو کر ماضی میں جینا سر پر روحانیت کا تاج سجاۓ تابناک ماضی کے قصیدے اور شکست خودہ حال کا الزام مغرب کو دینا جو کہ آج مسلمانوں کا قومی وطیرہ بن چکا ہے اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا امریکا کو برا بھلا کہنا مغرب کی سازشیں تلاش کرنا فطرت . جبکہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دوسروں پر ڈالنا مغرب کو الزام دینا امریکا کو کوسنا بنیادی طور پر ایک شکست خوردہ مسخ شدہ ذہنیت کا ثبوت ہے کہ کمزور کو اپنی کمزوری پر توجہ دینے اور اس کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ اپنی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنے کے لئے طاقتور کو الزام دینے کی اگر دو فریقین کے درمیان مقابلہ چل رہا ہو تو دونوں کو اپنی اپنی طاقت اور دماغ کے بھرپور استعمال کا پورا حق حاصل ہوتا ہے اس میں طاقتور کو گالیاں دینا برا بھلا کہ دینے سے ہار جیت میں نہیں بدل سکتی . کہ ہار کو جیت میں بدلنے کے لئے اپنی کوتاہیوں سے کمزوریوں سے نظر ملا کر انھیں دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے .

اسطرح مغرب کو ظالم کہ کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش سوائے تمہیں مزید خواری کے کچھ نہ دے سکے گی . کہ مغرب کی تاریخ اتنی بھیانک نہیں جتنی کہ تمہاری اپنی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر مشتمل ہے. تاریخ کو دیکھو تو بنا تعصب کے دیکھو تاریخ کو مسخ کرنے کا شغل تاریخ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکے گا لیکن ہاں وہ تمہیں ضرور مسخ کر دے گا اور بنا تعصب سے دیکھنے کا نتیجہ درست نتائج پر نکلے گا جس سے بہتری کی صورت بھی ممکن ہے . کہ جب کوئی بھی مریض اپنا مرض اپنی کمزوری اپنی کجی ،غلطی، گناہ، جرائم اور اپنی حرکتیں ماننے کو تیار نہیں ہو گا تو اس کے علاج کی نوبت بھی کیوں کر آ سکے گی ؟ کہ مسلمانوں کی تو مکمل تاریخ ہی ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے خوں خرابے قتل و غارت گری . غداری و دہشت گردی سے بھری پڑی ہے .یہ تو صدیوں سے ہی اپنے گلے کاٹتے اپنی ہی گردنیں مارتے چلے آ رہے ہیں . کہ

ہم لوگ نہ الجھے ہیں نہ الجھیں گے کسی سے

ہم کو تو ہمارے ہی گیریبان بہت ہیں

.بر صغیر کی تاریخ دیکھ لیجیے جس میں لارڈ کلاییف کے ساتھ صرف دو یا ڈھائی سو گورے تھے مگر باقی سب کون تھے ؟ جی ہاں وہ آپ کے اپنے ہی بزرگ تو تھے . بکھتر کی لڑائی میں شاہ عالم ثانی کا جو حشر ہوا اس کے ساتھ لڑنے والا کون تھا ؟ جی ہاں وہ بھی تو آپ کے اپنے ہی تھے . بابر کو فرغنہ سے مغرب نے نہیں بلکہ اس کے اپنے چچاؤں نے ہی نکالا تھا اور یہاں آ کر سب سے پہلے اس نے ابراہیم لودھی کی ہی تو گردن اتاری تھی . یلدرم جس نے پورے یورپ کو اپنے آگے لگایا ہوا تھا مگر امیر تیمور اٹھے تو یلدرم کا ستیا ناس کر گئے، مغلوں کا دور دیکھ لیجیے مغل شہزادوں کے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کے پیچھے کیا بش سازشیں کر رہا تھا ؟ وہاں باپ کو اندر اور سگے بھائیوں کے گلے اتارنے کے پیچھے کون سی انگریز کی ڈیوائیڈ اند رول کی سازشیں کار فرما تھیں ؟ پھر شیر شاہ کا ان سے لڑ پڑنا کیا امریکا کا کمال تھا ؟ بنو امیہ بنو عباس کے پیچھے بھی کیا مغرب کی قوتیں کار فرما تھیں ؟ محمد بن قاسم کو کھال میں سی کر کیا اباما نے بھیجا تھا ؟ عبیدہ بن جراح کے ساتھ کیا کیا ہوا اور کرنے والے کون لوگ تھے ؟ ٹیپو سلطان مارنے والے اس کے قاتل کون تھے ؟ انگریز نہیں بلکہ وہ غدار تم خود ہی تھے. کہ یہ تو صدیوں پر محیط صرف طاقت کا ایک ایسا بھیانک کھیل ہے کہ جس میں " ہے جرم ضعییفی کی سزا مرگ مفاجات " .


اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طاقت کے اس طویل اور بھیانک ترین کھیل میں آج تک کی تاریخ کے مطابق یہ سب غدار اور دہشت گرد پیدا کرنے کا ٹھیکہ آخر ایک مخصوص سر زمین نے ہی کیوں لے رکھا ہے ؟ ؟ غدار و دہشت گرد آخر ہمیشہ سے یہیں اسی سر زمین پر ہی کیوں پیدا ہوتے آ رہے ہیں امریکا میں اور مغرب کیوں نہیں ؟ یہ غدار و دہشت گردی کی فیکٹریاں صرف ہمارے ہاں ہی کیوں لگی ہوئی ہیں ؟ وہ اس لئے کہ غدار اور دہشت ایک خاص قسم کا مائینڈ سیٹ اپ ہے جو ایک خاص ماحول اور مخصوص معاشرے میں ہی پروان چڑھتا ہے . دہشت اور غداری کا یہ پکا ہوا پھل جنونیت کی فصل اور جہالت کا بیج ہے . کہ جس سر زمین پر فرد اور ریاست کا مفاد یک جان ہو جاتا ہے وہ زمین غداروں کی فصل کے لئے بنجر بن کر رہ جاتی ہے . اب اپنی بدنصیبی ذرا خود ہی ملاحظہ کر لیجیے کہ تمہارے پاس ملک و قوم کے مفاد کا یہ معیار آج بھی نہیں ہے جو انگریزوں کے پاس صدیوں پہلے تھا . میگنا ٹاٹا کے بعد انگریزوں میں یہ احساس شدت سے جاگا تھا کہ انکا ذاتی مفاد ملکی اور قومی مفاد کے بنا کچھ بھی حثیت نہیں رکھتا سر تھامس راؤ نے جہانگیر کے بیٹے کا کامیاب علاج کیا وہ صحت یاب ہوا تو جہانگیر نے انعام کے طور پر اس کے وزن کے برابر سونا تول کر دینے کا حکم دیا تو اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے سونا نہیں چاہیے بلکہ اس کے بدلے میری قوم کو اپنے ملک کے ساتھ تجارت کرنے اجازت دے دیں یہ ملک و قوم سے وفا جو انگریز کے پاس صدیوں پہلے تھی وہ تمہارے پاس آج دو ہزار گیارہ میں بھی نہیں ہے .کہ لیڈرز سوئس کیس بھگت رہے ہیں کوئی مسٹر ٹین پرسنٹ سے ایک سو دس پرسنٹ کہلاتا ہے کوئی کرپشن کا بادشاہ تو کوئی چور تو کوئی ڈاکو اور لٹیرا. جس کو جب اور جہاں موقعہ ملا ہے قومی خزانوں کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف نظر آ تا ہے . جہالت کی انتہا تو یہ ہے کہ صدیوں سے ایک بڑا دماغ پیدا نہیں کر سکے. اور لا قانونیت کی انتہا یہ کہ کسی بھی اسلامی ملک میں نہ عوام کی کوئی حثیت ہے نہ عزت نفس ، نہ روٹی ہے نہ کوئی بنیادی ضروریات زندگی اور نہ ہی انسانی حقوق اور جان کا تحفظ اور تو اور آج ایک چیز بھی ایسی نہیں مسلمانوں میں کہ جس پر فخر سے کہا جا سکے کہ وہ صرف ہمارے پاس ہے جو دنیا میں اور کسی کے پاس نہیں سواے غیرت کے اس بے غیرت تصور کے .


آج بھی اپنی شاندار تاریخ کے قصے لئے ماضی میں مست مگر حال سے بے حال ہو کہ اب مسلمانوں کی روشن تاریخ کی قصیدہ گوئی اور سپین کے چھین جانے پر نوحے حقیقت سے فرار کے سوا اور کچھ بھی تو نہیں کہ جب تم طاقتور تھے تو کیا نہیں کیا تم نے آج طاقت مغرب کے پاس ہے تو تکلیف کیوں ؟ جب تم میں سکت تھی دم تھا جان اور ہمت تھی تو تم نے اس طاقت کا بھرپور مزہ لیا اپنے قوانین بناے ہی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کراے آج طاقت کا ڈنڈہ اگر مغرب کے ہاتھ میں ہیں تو رونا کس بات کا ؟ انھیں بھی تو اب اپنی طاقت کا مزہ لینے دو . مغرب کی سازشوں کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے اپنے گیریبان میں جھانکو . . اگر مغرب آج ایک ارب چالیس کروڑو مسلمانوں کو دھتکار رہا ہے ذلیل و خوار کر رہا ہے تو پھر اپنی عقل استعمال کرو آنکھیں کھولو کہ تم خود ہی غلط ہو جو راستہ بھٹک چکے ہو .کہ جب تمہاری تاریخ بھی روشن ہے اخلاق بھی ٹھیک ہیں قوم بھی عظیم ہے ڈیڑھ ارب بھی ہو اور پھر بھی مغرب سے جوتے کھا رہے ہو تو اس کا قصوروار مغرب نہیں خود تم ہی تو ہو .

عفاف اظہر

قصوروار کون؟

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین