حقوق نسواں

  • پی ڈی ایف

خواتین کے حقوق کے ضمن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان بھر بلخصوص سرحد اور بلوچستان میں خواتین کے حقوق کی پامالیوں پر انتہائی تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کی ہے انسانی حقوق کمیش آف پاکستان اور فلاحی تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی خواتین کے حقوق کی پامالی انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔ .جنس کے مسائل پر کام کرنے والے ماہرین کے ایک سروے کے مطابق افغانستان خواتین کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے سرفہرست ہے جبکہ پاکستان اور بھارت بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو دوسرے نمبر پر ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں خواتین کو کم جہیز لانے، کم عمر میں خواتین کی شادیوں اور غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کی وجہ سے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اور ادھر پاکستان کی سینیٹ نے ونی، بدل صلح اور سوارہ کی رسوم کی روک تھام، عورت کو وراثت کے حق سے محروم کرنے، جبری شادیوں اور قرآن سے شادیوں کی روک تھام اور تیزاب سے جلائے جانے کے مجرموں کی سزا بڑھانے کے لیے دو الگ الگ بلوں کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے تحت بدل صلح، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی کے مرتکب افراد کو دس برس قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ’عورتوں کے خلاف جرائم‘ کے عنوان سے ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی دھوکہ دہی یا غیر قانونی ذرائع سے کسی عورت کو وراثت کی تقسیم کے موقع پر منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی وراثت سے محروم کرے اس کو کسی ایک نوعیت کی زیادہ سے زیادہ دس سال اور کم از کم پانچ سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

حقوق نسواں ایک ایسا نہ حل ہونے والا معمہ ہے جس پراب تک گزشتہ کئی دھائیوں سے پاکستان میں متعدد تنظیمیں کام کرتی چلی رہی ہیں مگر بے سود کہ آئے دن پاکستانی معاشرے میں ہوتی صنف نازک کے حقوق کی پامالیاں آزادی نسواں کی علمبردار تنظیموں کے تمام تر دعووں پر پانی پھیرتی دیکھائی دیتی ہیں کہ ان گنت معاشرتی رسوم و رواج اور نام و نہاد مذہبی اقدار کی چتاؤں پر عورت آج بھی بدستور ستی کی جا رہی ہےفرق ہے تو صرف اتنا کہ کل بیٹی پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دی جاتی تھی اور آج زندہ درگور تو نہیں کی جاتی ہاں مگر اس کی زندگی ہی موت سے بد تر بنا دی جاتی ہے . یہ حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں اور حکومتی ترمیمی بل چاہے ہر ممکن زور لگا لیں مگر خواتین کے حالت نہیں بدل سکتے .

کہ جس معاشرے میں عورت کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس کے لبوں پر شرم و حیا کے قفل ڈال دئے جاتے ہیں تو سوچ پر رسوم و رواج کے پہرے بیٹھا دئے جاتے ہیں باقی کی رہی سہی کسر اسے تعلیم سے محروم رکھ کر سر سے لے کر پاؤں تک پردوں میں ڈھانپ کر مذہبی اقدار سے پوری کر لی جاتی ہے جس معاشرے میں مذہب کا محور ہی عورت کی ذات ہو اور تمام تر معاشرتی اقدار کی تان بھی عورت پر ہی آ کر ٹوٹتی ہو وہاں یہ حکومتی بل اور آزادی نسواں کا ڈھول پیٹتی تنظیمیں بھلا کیا کر سکیں گی ؟ جس طرح ایک پھلدار پودے کا بیج لگانے کے لئے زرخیز زمین مناسب اب و ہوا بہت اہمیت کی حامل ہوتی کسی بھی چیز کی کمی بیشی اس فصل کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے بلکل اسی طرح حقوق اور آزادی کی اس فصل کا یج بونے کے لئے بھی تعلیم سے زرخیز قلب و ذھن پر مشتمل صحت مند معاشرتی اب و ہوا از حد ضروری ہے .کہ قانون ساز ادارے بھی تب تک صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے جب تک اس معاشرے میں قانون کی اہمیت کا احساس نہ جگایا جا سکے . قانون کو کہیں بھی لاگو کرنا تو بے حد آسان ہوتا ہے مگر اس پر عملدرآمد کروانا صرف اسی جگہ ممکن ہوتا ہے جہاں قانون کی اہمیت کو سمجھا جا تا ہو .

اور پھرعورت کو اس کے حقوق کوئی دوسرا کیسے دلوا سکتا ہے ؟ کہ یہ حقوق نسواں کی جنگ ہے جو کہ عورت کو خود ہی لڑنی پڑے گی . کہ ظلم کی سانسیں مظلومیت سے وابستہ ہیں تو خاموشی ہی جرم کے حوصلے بلند کرتی ہے .صدیوں پر محیط اس گھمبیر خاموشی کے قفل عورت کو خود ہی کھولنے پڑیں گے اپنے حقوق کے بدلے میں تھاما یہ صبر کا طویل دامن عورت کو خود ہی چھوڑنا پڑے گا . صدیوں سے پہنے ان شرم و حیا کے گہنوں کو بھی خود ہی اتارنا ہو گا کہ یہ حقوق کوئی پھل فروٹ نہیں جو یہ تنظیمیں اور قومی اسمبلیاں بلوں کی صورت میں عورت کو ٹرے میں رکھ کر پیش کر دیں گی اور نہ ہی آزادی کوئی ایسی چیز ہے جو برقع اتار کر نیکر پہن لینے سے مل جائے گی . بلکہ یہ آزادی حقوق کی جنگ ہے جسے لڑنے کے لئے ہمت حوصلہ اور طویل جد و جہد درکار ہے جو تعلیم کے بنا ممکن نہیں اور جو کسی دوسرے کو نہیں بلکہ عورت کو خود ہی کرنی ہے.

حقوق نسواں

تبصرے 

 
+2 # MOHAMMAD NAEEM TALAT 2012-03-31 16:47
VERY GOOD ARTICLE. KEEP WRITING

MOHAMMAD NAEEM TALAT
CORNWALL, ONTARIO
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین