پاکستان نے نیٹو افواج کی جانب سے اپنی سرحدی چوکیوں پر حملے کے بعد احتجاجاً جرمنی میں افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔پاکستان نے اس حملے کو اپنی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ قرار دیا جبکہ نیٹو اور امریکہ نے اس واقعے پر افسوس کا ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کرنے کا اعلان کیا۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے نیٹو کو اپنی سرزمین سے رسد کی فراہمی کا سلسلہ بند کر دی جبکہ امریکہ سے پندرہ دن میں شمسی ایئربیس خالی کرنے کو بھی کہا ہے۔ اور ہمیشہ کی طرح حکمران پارٹی کی جانب سے غیرتمندانہ بیانات کا سلسلہ اور بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں .
جس حکومت کو کبھی بھی اس گم گشتہ قوم کا خیال نہیں آیا تھا اسکے دل میں اب یک لخت عوام کی اتنی ہمدردی کہ امڈتے ہوے پیار کے جوش میں ہمارے وزیرِ دفاع نےبھی دھواں دھار قسم کا بیان داغ دیا کہ ’اگر امریکہ معافی مانگ لے تو ہم رسد کا رستہ کھول دیں گے‘ اور اس طرح اپنے لوگوں کا سستا خون بہانے کی مزید اجازت دے دیں گے تو ثابت ہوا کہ صرف معافی مانگ لینے سے سات خون معاف ہو سکتے ہیں اور غلامانِ امریکہ کو یہ عزت بھی مل گئی تو غنیمت ہے۔ بھئی جنگ ہے، لوگ تو کیڑے مکوڑے ہیں یہ تو مرتے ہی رہتے ہیں، امریکہ نہ مارتا تو بھوک سے مر جاتے۔ یعنی کہ ایک تیر سے دو شکار گہری نیند سے جاگتی عوام کو غیرت کی تھپکی اور امریکا کے لئے نیا ترانہ کہ " یہ وطن تمہارا ہے - ہم ہیں خوامخواہ اس کے "
غیرت کے اس جوش میں ہوش کھو کر بیانات داغتے ہوے حکمرانوں کو وقت کے آیئنے میں اپنا ہی بھیانک عکس دیکھائی نہیں دے رہا کہ آئی ایس پی آر کے مطابق نیٹو کا حملہ سرحد سے دو سو گز اندر تک ہوا۔ اس دوران چوکیوں پر فائز اہلکاروں نے فوج کی اعلٰی کمان کو وائرلیس یا فون کے ذریعے اطلاع دی اور گائیڈ لائن کی درخواست کی۔ یہاں سوال یہ بھی تو پیدا ہوتا ہے کہ اگر حملہ ہو تو بجائے ایسے موقع پرحملہ پسپا کرنا بارڈر فورس کی ذمہ داری ہوتی ہے یا افسرانِ بالا سے فون کے ذریعے ڈکٹیشن لے کروقت ضائع کیا جاتا ہے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ايبٹ آباد اور مہران نيول بيس معاملے پر آنے والا غيرت کا بخار بھی کچھ دن ميں اترگيا تھا۔ اب کہ یہ چڑھا يہ بخار بھی کچھ ’زيرِ ميز‘ لين دين کے بعد اتر جائےگا ’کچھ لو اور دو‘ کے فارمولے کا مطلب ’ملک کی خودمختاری بیچ کر ڈالر لے لواور ’ہم جمہور‘ کل پھر کسی نئے ’زندہ باد، مردہ باد‘ کے پيچھے چل کر اپنا حق ادا کر رہے ہوں گے۔ يہ سب کچھ صرف عوام ميں امريکہ مخالف جذبات کو دبانے کے ليے ہےاور کچھ دنوں ميں ہی اعلانيہ پابندياں غيراعلانيہ تعاون ميں تبديل ہوجائيں گي۔ ورنہ کاش کہ حکومت جو آج کر رہی ہے وہ ساتھ برس قبل کیا ہوتا تو پاکستان تباہی سے بچ جاتا .
اور پھر پاکستانی فوج کو اپنی سرحدوں کی حفاظت باہر کے نہیں بلکہ اندر کے دشمنوں سے کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ہماری زمین کچھ ممبئی، تفتان یا کابل پرحملوں کی لیے استعمال ہوگی تو ’خود مختاری‘ اور ’سرحد کی خلاف ورزی‘ کی باتیں کرنا فضول ہے۔ آپ کی سرحد سے نکل کر دوسروں کو نقصان پہنچانا بھی ایسے ہی آپ کی اپنی خود مختاری پر ضرب ہے جیسے باہر کے دشمن کا گھر میں گھس کر حملہ کرنا۔ اور پھر افغانستان کی تلخ حقيقت ہے کہ ہمارے ’خفيہ ادارے‘ اب بھی اس کی تباہی ميں کوئی کثر نہيں چھوڑ رہے يا يوں کہيں کہ افغانستان ان کی تجربہ گاہ ہے جہاں وہ اپنے ناکام تجربات ميں کبھی ملاعمر اينڈ کمپنی تو کبھی حقانی گروپ کو استعمال کرتے ہيں۔ بد قسمتی سے ’پاکستاني خفيہ اداروں‘ کی نيک نيتي کے بغير افغانستان کا موثر حل ممکن نہيں چنانچہ عالمی برادری دسيوں ايسي کانفرنسيں کرلے، افغانستان کا مسئلہ پيچیدہ ہی رہےگا۔ شايد سرحدی چوکيوں پہ حملہ خفيہ اداروں کی اسی دوہري پاليسي کے جواب ميں ’وارننگ‘ کے طور پہ کيا گيا۔ پاکستانی افواج پر نيٹو کا حملہ جارحيت ہے اور يہ بين الاقوامی اصولوں کے خلاف ورزی بھی ہے۔ جرمنی ميں افغانستان کے مستقبل پر بات چيت کے ليے منعقد ہونے والے اجلاس کے بائيکاٹ کا اعلان مناسب قدم نہيں۔ اگر بات پاکستان کی خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی ہے تو پاکستان کو بھی يہ سمجھنا چاہيے کہ گذشتہ دس سال سے ہماری سر زمین امریکی حمایت ميں افغانوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس سرحدی چوکیوں پر حملہ ہوا ہے، یہ چوکیاں افغان سرزمین کے پنتالیس کلومیٹر اندر بنی ہوئی ہیں۔
’احتجاج، بائيکاٹ اور تحقيقات‘ يہ وہ عوامل ہيں جو کہ پاکستانی حکومت يا فوج کرسکتی ہے، اس سے آگے جانے کی کسی ميں جرات نہيں۔ کچھ دن يہ واویلا چلےگا بعد ميں کوئی نيا ايشو اٹھےگا تو پرانے قصے عوام سميت سبھی بھول جائيں گے۔ جو مر گئے ان کا اور ان کے لواحقين کا اللہ وارث۔ بون کانفرس ميں جائيں يا نہ جائيں، وہاں فيصلے تو امريکہ نے ہی کرنے ہيں، اِنہوں نے تو ہاں ہی کرنی ہے توگھر بيٹھے بھی کرسکتے ہيں۔ افسوس اس بات کا کہ مرتے غريب ہی ہيں۔ اور پاکستانی قوم کو اکثر ايسے واقعات کے بعد غيرت کا شديد بخار چڑھ جاتا ہے جوکہ کچھ عرصے بعد تيزي سے اترجاتا ہے اور پھر ايک لمبے عرصے کے لیے وہ سب کچھ شروع ہوجاتا جو قومی غيرت کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ باوقار قوم بننے کے لیے نعروں اور بعض مذہبی ليڈروں کے حماقتوں پر مبنی نسخوں کی بجائے اجتماعی طور پر سائنس اور ٹيکنالوجی کے علم کے حصول کی طرف توجہ دينی چاہیے اور يہ صرف حکومت کی نہيں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ ہاتھوں میں بھیک کے کشکول لے کر حکم نہیں چلایا جا سکتا جن کے صدقوں پر پلے ہیں ان کو آنکھیں نہیں نکالی جا سکتیں.
پاکستان جو آج دنیا بھر کی نظر میں صوما لیہ کے قریب ترین ہے جہاں کی پنسٹھ فی صد سے زائد آبادی خط غربت تلے زندگیاں گزار رہی ہے . مگر سوئس بنک کے ایک ڈائرکٹر نے پاکستان کے غریب ملک ہونے کی سختی سے تردید کر دی ہے اسکا موقف ہے کہ انکے بنکوں میں پاکستانی حکمرانوں سول اور آرمی بیورو کریسی کی لوٹ مار کے اٹھائیس ٹریلین ڈالرز جمع ہیں . جس کے استعمال سے *** پاکستان کا تیس سال کا ٹیکس فری بجٹ بنایا جا سکتا ہے *** ساٹھ لاکھ بیروزگاروں کو روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے ***پاکستان کے ہر گاؤں سے لیکر اسلام آباد تد چار چار لائنز کی سڑکیں بنائی جا سکتی ہیں *** پانچ سو سے زیادہ عوامی سماجی پروگرامز کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے ***ساٹھ سال کیلئے ہر پاکستانی شہری کو ہر مہینے بیس ہزار روپے کی مالی امداد دی جا سکتی ہے *** پاکستان کی ہمیشہ کے لئے وورلڈ بندک اور آئی ایم ایف سے جان چھڑوائی جا سکتی ہے . کانفرنس کا بائيکاٹ پاکستان کی جوابی حکمتِ عملی کا ايک حصہ ہونا چاہيے تھا ۔ اور پھر دوسرا يہ کہ افغانستان ميں برسرِپيکار ’نيٹو‘ ميں شامل تمام ممالک کے اسلام آباد ميں متعين سفيروں/ سفارتکاروں کو مشترکہ طور پر متعلقہ وزارت ميں طلب کرکے شديد احتجاج اب تک ريکارڈ کرا ديا جانا چاہيے تھا اور يہ کام زرداري/گيلانی خُود کرتے۔ ليکن وائے ناکامي، مُنہ اگر ڈالروں اور ديگر ذاتي مصلحتوں کی خاطر بند ہوں تو ہمت کہاں سے لائيں؟
| کونسی آزادی کیسا جشن ؟ عفاف اظہر آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ] |
ڈوبتی ناؤ عفاف اظہر پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں [ ... ] | مزید مضامین | ||