انقلاب انقلاب انقلاب ، یہ انقلاب کا لفظ تو گویا میڈیا کے سر پر بھوت بن کر ناچ رہا ہے .تیونس کی عوام نے گہری نیند سے کیا انگڑائی لی تو اسے انقلاب سے تعبیر کیا گیا مصری عوام نے مبارک حسنی کو کیا بھگایا میڈیا کی نظر میں یہ انقلاب تھا لیبیا کے باغیوں نے قذافی کو ناکوں چنے چبواے تو بھی یہ انقلاب ہی تھا . اور اب انقلاب کے گن دن رات پاکستان کے میڈیا میں گائے جا رہے ہیں اس امید پر کہ کب پاکستان کی عوام خواب خرگوش سے جاگے اور اپنے سر پر مسلط ایک قہر الہی نما ان حکمرانوں کو بھگانے پر مجبور کر دے کب عوام سڑکوں پر نکلے اور حکمرانوں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دے . عوام تو آخر عوام ہی ہیں خواب نہ دیکھیں تو اور کریں بھی کیا ؟ لیکن ان خمینی انقلاب کے راگ الاپتے صحافت کے علمبرداروں کو کون سمجھاے کہ انقلاب کا وجود ابھی تک اس امت کے لئے ایک ایسا شجر ممنوعہ ہے جس کا سوچنا بھی کفر ہے .
انقلاب کی امید رکھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انقلاب ہے کیا ؟ کیا یہ انقلاب تھا جو تیونس میں آیا کیا مصر میں جو تماشا ہوا وہ انقلاب ہے یا پھر لیبیا میں جو ہنگامہ برپا ہےکیا اس کو انقلاب کے پلڑے میں تولا جا سکتا ہے ؟ کہ ہم یہیں دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ انقلاب کی حقیقت سمجھے بنا ایک دیوانے کے خواب کی طرح اس کی امید لگائے بیٹھے ہیں .انقلاب کوئی اندھی یا طوفان نہیں کہ ایک دم سے آیا ہنگامہ برپا کیا اور پھرغائب . بلکہ حقیقی انقلاب تو آہستہ آہستہ علم کی روشنی سے بیداری شعور اور ذہنی پختگی کی مشعلیں جلاتا معاشرے کو ترقی سے ہمکنار کرتا ہوا انقلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے . جس طرح ہر فصل کے لئے مناسب زمین اور اب و ہوا اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسی طرح انقلاب کی یہ نایاب فصل بھی زرخیز معاشرتی زمین کی کوکھ اور صحت مند تعلیمی اب و ہوا کی محتاج ہے - مگر بد قسمتی سے آج مسلمان امت ایک ایسے غلیظ جوہڑ کی مانند ہے جس میں دیر سے کھڑا گندا بدبو دار پانی اپنی غلاظت اور بدبو سے ارد گرد کی اب و ہوا کو بھی زہر آلود کر رہا ہے .
تیونس مصر اور لیبیا کی عوام نے نیند سے انگڑائی لی ایک مثبت پہلو ضرور ہے مگر اسے انقلاب سے تعبیر کر دینا مناسب نہیں کیوں کہ انقلاب کی اولین شرط ہی علم ہے جس کی روشنی سے آج پوری مسلم امت محروم ہے . ظلم کے خلاف کھڑے ہونا انسان کا بنیادی حق ہے چالیس سال سے دبی مظلومیت کی آواز یقینا ایک چیخ بن کر ہی نکلے گی اور یہی تیونس مصر اور لیبیا میں ہوا ہاں مگر تعلیم کی نعمت سے محروم شعور و آگاہی کے بنا مظلومیت کی یہ آواز صرف ایک چیخ ہے جو کچھ دیر شور مچا کر پھر دم سادہ لے گی .یہ انقلاب ہرگز نہیں بلکہ صرف ایک ضد ہے جو پوری ہوتے ہی دم توڑ دے گی بدلے کی آگ ہے جو بدلہ لیتے ہی ٹھنڈی پر جائے گی ایک وقتی جوش ہے جو جلد ہی جھاگ کی مانند بیٹھ جائے گا مگر اس پس منظر میں پاکستان سے خمینی انقلاب کی امید لگا لینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ؟ کہ جہاں کی عوام پنجابی سندھی بلوچی اور پختوں بن کر ایک دوسرے کی گردنیں فخر سے اڑا سکتے ہیں مگر کبھی پاکستانی نہیں بن سکتے . جہاں کی عوام کے لئے "مسلمان بھائی چارہ" کا لفظ ایک گالی کی مانند ہے . پاکستانیوں کا المیہ دنیا سے نرالا ہے کہ اخلاقی معاشرتی سماجی یا معاشی یا پھر مذہبی کسی بھی پہلو پر نظر ڈال لیں مکمل طور پر ناکام اور لب دم ہے . مذہبی جنونیت کا کینسر زہر بن کر معاشرے کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے . ایمان کو خرافات میں دھکیل کر دنیا بھر کے لئے اسلام کو ایک معمہ بنا رکھا ہے . کہ آج ہمیں اب اس حال میں کسی بھی خمینی کی نہیں بلکہ ایک مصطفیٰ کمال اتا ترک جیسے مسیحا کی ضرورت ہے .
| کونسی آزادی کیسا جشن ؟ عفاف اظہر آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ] |
ڈوبتی ناؤ عفاف اظہر پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں [ ... ] | مزید مضامین | ||
تبصرے