پاکستان اور امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کے باوجود کبھی بھی ایک دوسرے پر مکمل اعتماد نہیں کر پائے اور گاہے گاہے امریکا کی طرف سے الزامات کی انگلیاں اٹھنا اور پھر پاکستان کا اپنا دفاع کرنا گویا اب ایک معمول ہی بنتا چلا جا رہا ہے جیسا کہ حالیہ حقانی نیٹ ورک کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ موجودگی کا ایک بڑا اختلاف ابھر کر سامنے آیا ہے۔ امریکی اعلٰی حکام گزشتہ چند روز سے ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے جو مبینہ طور پر کابل میں امریکی سفارت خانے سمیت کئی دیگر بڑے حملوں میں ملوث ہے ۔سب سے سخت اور واضح بیان تو امریکی فوج کے کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے آیا ہے کہ شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بازو ہے. دوسری طرف پاکستانی حکام کی جانب سے تردید اور اپنی صفائیاں پیش کرتے بھانت بھانت کے بیانات کا نہ ختم ہونے والا سلسہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے تو امریکہ کو ایک اتحادی کھونے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ یوسف رضا گیلانی صاحب کا امریکا کو مشکلات پیدا نہ کرنے کا تنبیہی بیان . فوجی ترجمان اطہر عباس کا ’حقانی گروپ سے رابطہ ہے لیکن تعاون نہیں‘ کا بیان تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی حکام فی الحال کچھ بھی سمجھنے یا سننے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہیں .
کہ اب . امریکہ کئی برس کی ناکامی کے بعد اربوں ڈالر کے نقصان اور اپنی گرتی ہوئی معیشیت کا الزام پاکستان پر لگا کر دنیا کے سامنے اپنی فوج کی عزت برقرار رکھنے کی کوشش رہا ہے۔ جب کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے، چاہے وہ معاشی نقصان ہو یا جانی۔ اور دوسری طرف یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان کے تمام خفیہ ا دارے يقيناً حقانی گروپ کے ساتھ ہيں، فوج کی اعلٰی قيادت اور حکمرانوں کو بھی اس کا علم بھی ہے مگر اعلٰی قيادت اگر امريکہ کی مان کر ملوث افراد کو بے نقاب کرنا چاہے تو فوج کی آپس ميں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔ آئی ايس آئی کی شاخیں اسلامی جماعتوں اور مسلم ليگ نون سے بھی منسلک ہيں . مگر ہيروئن کا نشہ اور احمقوں کی جنت کا نشہ ايک ہی جيسے اثرات رکھتے ہيں۔ دونوں کے عادی افراد عقل جيسی مصيبت سے باآسانی چھٹکارا پا ليتے ہيں اور ہر فيصلہ حماقتوں کی پينگ پر جھولتے ہوئے کرتے ہيں۔ پچھلے کئی عشروں سے اسی نشے کے عادی افراد جو کہ پاکستان کی اسٹيبلشمنٹ اور مذہبی جماعتوں ميں موجود ہيں، امريکہ کی تباہی کی سعيد دے رہے ہيں اور طالبان کے ساتھ مل کر چھوٹی چھوٹی شرارتيں کرکے امريکہ کی شکست کا اتنظار کر رہے ہيں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ "خوش رہنے کے لیے عقل کو خداحافظ کہہ دو"۔
حقانی گروپ بھی تاریخی حقائق کے ا عتبار سے القاعدہ ہی کی طرح امریکا کے اپنے ہی ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے حقانی گروپ کا بیج بھی روس کے ساتھ سرد جنگ جیتنے کی خاطر ہی بویا گیا تھا . پاکستان کی سر زمین میں امریکی شفقت پدری کے زیر سایہ القائدہ کی ہمجولی میں پل کر جوان ہونے والا یہ حقانی گروپ بھی سرد جنگ کا الہ کار تھا تو پھر اب یہ امریکا کی انگارے برساتی سرخ آنکھیں صرف پاکستان ہی کی جانب کیوں ؟ کہ صاف سی بات ہے کہ امريکہ کے مفادات خطٌے ميں تبديل ہو چکے ہيں اور پاکستان اب اس کی ضرورت نہيں رہا۔ ایبٹ آباد میں اسامہ، امریکی خفیہ آپریشن اور بعد ازاں پاکستان کی کمزور ترین خارجہ پالیسی، کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی جاندار کریک ڈاؤن نہ ہونا، یہ وہ پس منظر ہے جس سے بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ ملک کی حکومت و عسکری ادارے افغانستان میں سرگرم حقانی نیٹ ورک سے دانستہ یا غیردانستہ، بلاواسطہ یا بلواسطہ، زیادہ یا کم تعلق ضرور رکھتے ہیں، یہ تصویر کا ایک رُخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں سرگرم ہے جبکہ آئی ایس آئی پر اس سے تعلق کا الزام "عالمی سامراج" نے عائد کرنا شروع کیا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ اتحادیوں کو تیل و رسد کی سپلائی پاکستانی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کا بھی امریکہ عرصہ سے کہتا رہا تھا اور اب حقانی گروپ کی قیادت کی جنوبی وزیرستان میں موجودگی اور خفیہ اداروں کے اس سے تعلقات بھی کسی مستقبل قریب یا دور میں کسی بہت بڑے "خفیہ آپریشن" کا "روڈ میپ" یا "ہوم ورک" ہے۔
یہ پر جوش و غیرت مندانہ بیانات سیلاب کی تباہی کا غم غلط کرنے کے ایک بہانے کے سوا کچھ بھی نہیں کچھ ہی دن کی بات ہے پھر دیکھئے کہ بدلتے ہیں رنگ یہ حکمران کیسے کیسے ؟ کمال کی ڈھٹائی اور بے غیرتی کی انتہا ہیں یہ تمام کے تمام الزامات اور تردید کرتے ہوے بیانات کا یہ سلسلہ بھی کہ
امريکہ کی وفاداريوں کا دم بھرنے والی پاک فوج اور وائٹ ہاؤس کا حج و طواف کرتے ان پاکستانی حکمرانوں کی کوتاہيوں کا خميازہ اب پاکستانی قوم کو بھگتنا ہے کہ حکمرانوں کے یہ بھانت بھانت کے بیانات بظاہر بہت جرات مندانہ سہی مگر حقيقت ميں صرف سياسی دھمکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہيں۔ کہ نيٹو سے دشمني مول لے کر ہاتھوں میں اٹھاے بھیک کے اس کشکول کا کیا بنے گا ؟ اور پھر امريکہ اور پاکستان کي دوستی تو ہمیشہ سےمفادات کی بنیادوں پر رہی ہے پاکستان اور امریکا کا رشتہ تو ہمیشہ سے ایک طوائف اور پینگ گیسٹ کا ہی رہا ہے. کہ ایک نے اپنے ہاتھ سے اس حقانی نیٹ ورک کے پودے کا بیج بویا تو دوسرے نے اس کو زرخیز زمین فراہم کی ایک نے اگر اپنا تخم دیا تو دوسرے نے اپنی کوکھ فراہم کی کہ پاکستان اگر حقانی گروپ کی ماں ہے تو امریکا اس حرام کے بچے کا باپ قصوروار تو دونوں ہی برابر کے ہیں تو پھر یہ ڈرامہ کیوں ؟
| کونسی آزادی کیسا جشن ؟ عفاف اظہر آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ] |
ڈوبتی ناؤ عفاف اظہر پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں [ ... ] | مزید مضامین | ||