نجانے ابھی اور کون سے حشر کا انتظار ہے ؟

  • پی ڈی ایف

میرا بد نصیب وطن کہ ہر طرف سے بری طرح آفات کی زد میں ہے پنجاب میں ڈینگی وائرس نے تہلکہ مچا رکھا ہے تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں بارشوں نے ایسی تباہی مچا رکھی ہے کہ سندھ کو سیلابی صورت حال کا سامنا ہے . مون سون کی بارشوں نے پہلے تو اہلیان سندھ کو بہت انتظار کرایا اور جب بارشیں ہوئیں تو صورت حال نا گفتہ بہ ہے . حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی بارشوں سے قبل تمام تر انتظامات کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن چند دن کی موسلا دھار بارشوں نے تمام تر حکومتی انتظامی دعووں کا بھرم کھول دیا . کئی دن کی موسلا دھار بارشوں کے تحت نکاسی آب کے گھمبیر مسائل سے سندھ کی نشیبی آبادیاں اہم شاہراہیں ہزاروں گاؤں مکمل طور پر زیر آب آچکے ہیں.

متاثرین کی تعداد اٹھاون لاکھ چونسٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ تئیس لاکھ نوے ہزار سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جن میں دو لاکھ ستر ہزار سے زیادہ لوگ سانس کی بیماری جبکہ ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زیادہ ملیریا کا شکار ہیں اور ملیریا کا شکار سولہ سو ساٹھ افراد کی حالت تشویشناک ہے . ساڑھے بیس لاکھ ایکڑ پر مشتمل فصلیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ کل تک یہ تعداد پندرہ لاکھ پچانوے ہزار ایکڑ بتائی گئی تھی۔ سیلاب اور برسات سے متاثر ہونے والے مکانات کی تعداد بارہ لاکھ انتیس ہزار بتائی گئی ہے جس میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات چار لاکھ باون ہزار سے زیادہ ہیں۔سندھ حکومت کے مطابق امدادی کیمپوں کی تعداد ساڑھے چھبیس ہزار سے زیادہ ہے جہاں سوا چار لاکھ کے قریب لوگ مقیم ہیں۔ جبکہ اب بھی لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے مختلف سڑکوں اور نہروں کے پشتوں پر آباد ہیں۔

یہ بجا ہے کہ آج پوری دنیا اس ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان ہے . بے شک کہ یہ غیر معمولی حالات ہیں .لیکن اگر یہ ایک تسلسل سے انا شروع ہو جائیں جیسا کہ ابھی گزشتہ برس ہی پاکستان کا پانچواں حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا تو پھر فوری سد باب کیا جانا اور مناسب انتظامات کے لئے فکرمند ہونا حکومت اور انتظامیہ کی اولین ترجیح بن جاتا ہے . لیکن گزشتہ برس کی خوفناک تباہی کے بعد اب بھی انتظامیہ اور حکومت کا اسطرح احتیاطی اقدامات سے گریز یہ انتہا کی بے حسی اور لا پرواہی بھی کسی طور قہر خداوندی سے کم نہیں .

سندھ کی اس حالات زار کا اندازہ حکمرانوں کو اور سندھ انتظامیہ کو بھی تھا مگر انتظامی امور کے ادارے بدستور شتر مرغ کی مانند ریت میں سر دبائے بے خبر اور حکومت نے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں موندھنے پر ہی اکتفا کیا .تمام تر ناقص انتظامات کے باوجود بھی انتظامیہ ابھی اس گمان میں کہ سیلاب بھی شاید انہی کی طرح رشوت خور نکلے یا مہاجروں کی غنڈہ گردی سے ڈر کر راستہ بدل لے کبھی برساتی نالوں اور نکاسی کے نظام پر توجہ دینا ضروری نہ سمجھا گیا . اور اس بار بھی اس سیلابی صورت حال نے انتہائی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامیہ کی بد دیانتی کے تمام تر پل بہا دیے. قدیم ندی نالوں پر قائم نا جائز تجاوزات اور ان میں بلا خوف و خطر کوڑا کرکٹ ڈالنا نکاسی آب کے نظام میں ابتری کا سبب ہے جس کی ایک بری ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ عوام پر بھی عائد ہوتی ہے .

مسلسل بارشوں سے ملک کے ایک بڑے حصے میں نظام زندگی مفلوج اسکول کاروبار اور تجارتی مراکز بند ہونے کے ساتھ ساتھ اربوں کا جو نقصان اب ہوا سو ہوا مگر ایک ہولناک قیامت تو ابھی باقی ہے جواب کی بار سیلاب سے تیار فصلوں کی تباہی پر خوراک کے بحران اور قحط سالی کی صورت حال پیدا کرتے ہوے مستقبل قریب کے پاکستان کی صومالیہ کی حالیہ تصویر سے مشابہت دیکھا رہی ہے .

قدرتی آفات تو اتی رہتی ہیں ور انسان بے بس ہے مگر انسان کے پاس شعور کی نعمت اور علم کی طاقت کے وہ ہتھیار ہیں جو ہر مشکل پر غالب انے کی اہلیت رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنے گزشتہ تجربات سے سیکھتے ہوۓ آگے سے اگے بہتر کی جانب قدم بڑھائے .کہ " تقدیر کے پر کٹتے ہیں تدبیر کے آگے " جاپان کی سر زمین زلزلوں کی آماجگاہ ہے مگر اس با ہمت قوم نے مظلومیت کے آنسو بہانے اور بھیک کا کشکول اٹھانے کی بجاے علم و ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر کے اپنے گزشتہ نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوے ایسے تعمیراتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا اور ایسی لچکدار عمارتیں کھڑی کر لیں کہ جو زلزلے کی شدت سے زمین بوس ہونے کی بجاے اسے برداشت کرنے کی اہلیت رکھتی ہوں . سیلابی صورت حال کا سامنا یورپ امریکا اور سب سے بڑھ کر تو کینیڈا کو ہونا ایک لازمی امر بن جاتا اگر انکا نکاسی آب کا نظام اسقدر اعلی اور مضبوط نہ ہوتا . پانی کی تباہی انڈیا پر بھی کم نہ اتی اگر اس نے اپنی توجہ ڈیموں اور دیگر ضروریات پر نہ دی ہوتی.

مگر بد قسمتی سے ہمارے پاس ایٹم بم ، توپوں . اور گولہ بارود کے لئے تو رقم ہے مگر ڈیم اور دیگر ضروریات زندگی کے لئے نہیں انسانیت کو نیست و نابود کرنے میں تو ہم خود کفیل ہیں مگر انسانیت کی خدمت کے لئے نہ ہمت ہے نہ ہی طاقت . گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے کے ارادے آج اپنا یہ بنایا ہوا ایٹم بم ہی کھلوا کر چھوڑیں گے . ایک طرف ہمارے ہی خوں پر پلتے یہ ہمارے یہ بے حس آدم خور حکمران کہ جنہیں ابھی نجانے کتنا اور کون چوسنا باقی ہے تو دوسری طرف عوام کی بے حسی کہاں کسی سے کم ہے کہ ایک جانور کی گردن بھی جب چھری کے نیچے ہو اور اسے اپنی موت اتی نظر آ رہی ہو تو وہ جی جان سے رسیاں تڑوانے اور جان بچانے کی کوشش کرتا ہے اتنے آرام سے قربانی کے لئے تو جانور بھی اپنی گردن پیش نہیں کرتا جتنی کہ پاکستانی عوام پیش کر رہی ہے . نجانے ان کو بیدار ہونے میں ابھی اور کون سے حشر کا انتظار ہے ؟

جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت

شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے

عزت کی بہت دیکھ لیں دنیا میں بہاریں

اب دیکھ لیں یہ بھی کہ جو ذلت میں مزہ ہے

نجانے ابھی اور  کون سے حشر کا انتظار ہے ؟

تبصرے 

 
+2 # Misbah 2011-09-19 05:21
yes you are right. i really liked the last verse you wrote
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین