دس سال پر محیط طاقت اور تشدد سے بھر پور نائن الیون کی اس طویل ترین آسکر ایوارڈ کی تمام تر قابلیتوں کو بھی کہیں پیچھے چھوڑتی ہوئی ڈرامہ سیریل جسے دنیا دیکھ ہی نہیں رہی بلکہ گزشتہ ایک دہائی سے بھگت بھی رہی ہے . نائن الیون کہ جس نے دس سال کے اندر اندر دنیا کا نظارہ ہی بدل ڈالا کہ ایک خطے میں کشت و خون کی ہولیاں اور خوف و دہشت کا کی آندھیاں انسانیت کے چیتھڑے اڑانے لگیں تو دوسرے میں نفرت و تعصب کی فضاؤں نے ڈیرے ڈال لئے او رپھر اجتمائی طور پر مشرق و مغرب کو معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر لا کھڑا کیا .
نائن الیون یعنی ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کے گرنے کے سانحے کہ جس نے تقریباً ڈھائی ہزار امریکیوں کی جانیں لیں سے لیکراس کے ہیرو اسامہ بن لادن تک پہنچ کر اسکو کیفر کردار تک پہنچانےمیں تین ہزار پانچ سو انیس دن لگے ، دس ٹریلین ڈالرز کی رقم نائن الیون کے دن پولیس اور آگ بجھانے والے عملہ کی ذہنی و جسمانی صحت پر لاگت آئی ، چار سو بائیس ٹریلین ڈالرز کی رقم ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے گرد و پیش میں رہنے والے امریکی شہریوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر لاگت آئی . اور چار عشاریہ تین بلین ڈالرز کی رقم حادثے کے برے اثرات کے تحت قبل از وقت ریٹائر منٹس پر لاگت آئی ،ایک اعشاریہ دو سو تراسی ٹریلین ڈالرز کی سالانہ رقم امریکہ کو اپنی حفاظتی اداروں کی صورتحال بہتر بنانے پر لاگت آئی . اور پھر نائن الیون سے لے کر اب تک بانوے بلین ڈالرز کی سالانہ ر قم امریکا کو اپنی حفاظتی ایجنسیوں پر لاگت آ رہی ہے . اور دوسری طرف بدلے کی آگ میں جھلستے بن لادن کی تلاش میں عراق و افغانستان اور پاکستان کو نیست و نابود کرتے ڈھائی ہزار امریکیوں کی جان کے بدلے لاکھوں افغانیوں عراقیوں اور پاکستانیوں کو قربانی کی بلی چڑھاتے گزشتہ دس برسوں سے ان پر ٹریلین ڈالرز موسلا دھار بموں اور ایٹمی ہتھیاروں کے ذریعہ برساتے ایک لمحہ بھی یہ نہ سوچا کہ یہ جنوں دنیا کو کس طرف لے جا رہا ہے ؟
گزشتہ دس برسوں سے جاری اس دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم نے دنیا کو کتنا تحفظ دیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں . کہ انصاف کا کٹہرا تو ہمیشہ کی طرح اب بھی انصاف کرنے کا منتظر ہی رہا مگر بدلے اور جنوں نے دنیا کا نقشہ ہے بدل ڈالا .اس حادثے کہ جس میں امریکہ کی تو دو عمارتیں گریں اور چند ہزار لوگ شدت پسندی کا شکار بنے جبکہ اس ناکردہ جرم کی پاداش میں عراق و افغانستان کو کھنڈر اور لاکھوں بے قصور شہریوں کو صرف اسامہ بن لادن کی تلاش کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اتنا ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی بھکاری اور مغرب کو معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پرلا کھڑا کیا مگر یہ سلسلہ ہے کہ ابھی تک جاری و ساری ہے .اس لئے کہ گزشتہ دس برسوں سے بدلے کی آگ میں جھلستے جوش و جنوں کے فیصلے کرتے رقم پانی طرح بہا کر لاکھوں جانیں لے کر بھی آج دس برس بعد بھی وہیں کھڑے ہیں کہ جہاں سے چلے تھے کیوں کہ اسامہ بن لادن کے خاتمے کے باوجود نائن الیون کے محرکات ابھی تک جوں کے توں موجود ہیں. دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دہشت کا خاتمہ ہونے کی بجاے دہشت میں بے پناہ اضافہ کیوں ہورہا ہے ؟ اور تو اور امریکا بانوے ملین ڈالرز کی لاگت سالانہ اپنی حفاظت پر خرچ کر کے بھی خود کتنا محفوظ ہے یہ وہ بھی جانتا ہے مگر ایک طاقت کا جنون ہی تو ہےجو گزشتہ ماہ و سال کے ائینے میں اپنی یہ ناکامیاں کوتاہیاں اور غلط فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کے آڑے آ رہا ہے .
آج نائن الیون امریکیوں سے کہیں زیادہ تو باقی دنیا کو منانا چاہیے کہ جس کے توسط سے ایک خطے کا محدود دہشت گردی و شدت پسندتی کا کینسر آج اپنا زہر پوری دنیا میں پھیلا چکا ہے . کہ آج دنیا بھر میں نسلی و مذہبی تعصب اپنی جڑیں بری طرح پھیلا چکا ہے . مذہبی منافرت ہر خطے میں سر اٹھا رہی ہے . دنیا بھر میں آج عدم تحفظ و خوف ہراس کے ساتھ ساتھ ایک مایوسی کا عالم ہے . کیونکہ یہ دہشت گردی و شدت پسندی کی طویل ترین جنگ مذہبی جنونیوں کے ساتھ ضرور تھی مگر اس کا حل یہ جنون ہر گز نہیں تھا کسی بھی بیماری کو ختم کرنے سے پہلے اس کی مکمل تشخیص اور صحیح دوا کا استعمال ضروری ہوتا ہے . کہ ایک بیماری کا علاج دوسری بیماری سے کب ممکن ہوا ہے ؟ ایک جہالت کا مقابلہ دوسری بڑی جہالت سے ایک پاگل پن کا خاتمہ دوسرے بڑے پاگل پن سے ایک دہشت کا خاتمہ دوسری بڑی دہشت سے ایک جنون کا مقابلہ دوسرے بڑے جنون سے اور ایک شدت پسندی کو دوسری بڑی شدت پسندی سے ختم کرنا سر ا سر حماقت ہی تو ہے اور اسی حماقت کا انجام آج دنیا بھگت رہی ہے .
| کونسی آزادی کیسا جشن ؟ عفاف اظہر آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ] |
ڈوبتی ناؤ عفاف اظہر پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں [ ... ] | مزید مضامین | ||
تبصرے
good job,