گمشدہ نسل گمنام مستقبل

  • پی ڈی ایف

ایک مسخ شدہ گمشدہ نسل کے ساتھ وابستہ ایک گمنام مستقبل کا کربناک احساس میرے لئے ایک بھیانک سپنے کی مانند تھا جو گزشتہ ہفتے میں نے ذہنی جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار بچوں کے ادارے چلڈرن ایڈ سوسایٹی ٹورانٹو کے ساتھ گزار کر دیکھا ہر گزرتا ہوا پل اور ایک ایک لمحہ سلگتے بے رحم حقائق سے پردے اٹھاتا محرومیت کا احساس جگاتا مظلومیت کی نت نئی تصویریں دیکھاتا اور انسانیت کی منہ پر بھر پور طمانچے مارتا دیکھائی دیا .

ماں باپ کی شفقت سے ہاتھ دھوتے یتیموں کا اور ہسپتالوں سے نو مولود روحوں کا خیراتی اداروں کی زینت بننا تو سنا ہی تھا مگر ایک اذیت ناک حیرانی کاعالم تو یہ تھا کہ یتیموں و لاوارثوں سے کہیں بڑی تعداد ان معصوم جانوں کی تھی جو اپنے ہی والدین کی ہاتھوں ذہنی جسمانی و جنسی تشدد کا شکار ہو کر اپنے ہی گھروں سے بے گھر ہوے بےبسی و لاچاری کی تصویر بنے حکومت کی تحفظاتی ادارے کی زینت بنے بیٹھے ہیں . ایک تلخ ترین حقیقت یہ کہ چلڈرن ایڈ سوسایٹی ٹورانٹو میں سب سے بڑی تعداد ان معصوم اور مظلوم روحوں کی ہے جو اپنے ہی بے رحم والدین کے آپسی جھگڑوں یعنی کہ گھریلو تشدد کا شکار ہو کر طرح طرح کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوۓ حکومت کی اس تحفظاتی ادارے کی نگرانی میں زیر علاج ہیں اور جن میں ایک بڑی تعداد ایشین بچوں کی ہے .

ہمارے کلچر میں گھریلو جھگڑے ذہنی و جسمانی تشدد کا سبب تو بنتے ہی ہیں لیکن بہت سے حالات میں تو نوبت قتل و غارت کی بھی آ جاتی ہے . اقلیتوں کے حق مارنا ہمارا ذہنی سیٹ اپ بن چکا ہے ہر طاقتور اپنی طاقت کے زور پر دوسروں کے حقوق غصب کرنا اپنا حق سمجھتا ہے اور یہی وطیرہ گھروں میں بھی رائج عمل ہے کہ مرد اپنی طاقت کے بل بوتے پر عورت کے حقوق تو غصب کرتے ہی ہیں اور جب دال گلتی نظر نہ آئے تو جسمانی طاقت سے منوانا مار پیٹ اور جسمانی تشدد کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور پھر نفرت و غصے کی یہ فضاء جب حد سے بڑھ جائے تو عورتوں کو جان مارنا بھی اس نام و نہاد ایشین کلچر میں غیرت و مردانگی ہی سمجھا جاتا ہے اور اس عزت غیرت اور مردانگی کے ڈرامے میں ہمیشہ سے ایک سب سے اہم حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ ہیں ان ذہنی و جسمانی تشدد سے بھرپور فضا پر مشتمل گھروں کی سب سے حقیر ترین اقلیت یعنی کہ معصوم و مظلوم بچے جو دنیا میں آ کر والدین کا درجہ دیتے ہیں مگر والدین انکے معصوم ذہنوں پر عزت و غیرت کے ڈرامے اوراپس کے جھگڑے تلخیاں اور بد امنی کا ماحول رقم کرکے انھیں نفسیاتی الجھنوں کا شکار بنا کر ذہنی طور پر بیمار بنا دیتے ہیں .

اس حکومتی تحفظاتی ادارے کی زیر حفاظت انے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں اور طبی اداروں کے توسط سے اتی ہے . کہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار بچے سکولوں میں اپنے رویوں سے اساتذہ اور کونسلز کی نظر میں آ جاتے ہیں اور انھیں نفسیاتی معالج کے مشورے کے بعد تحفظاتی ادارے میں رپورٹ کیا جاتا ہے . اور دوسری طرف طبی اداروں پر بھی یہ فرض لاگو کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں پر ہونے والے ہر جنسی اور جسمانی تشدد کی رپورٹ فورا تحفظاتی ادارے میں کریں اور پھر ان مظلوم و بے سہارا بچوں کو یہ حکومتی ادارہ تحفظ کے ساتھ ساتھ انکی ذہنی و جسمانی صحت سے لے کر تعلیم اور ضروریات زندگی کے تمام تر اخراجات فراہم کرتا ہے .

ان تلخ حقائق کا سب سے اذیت ناک پہلو تو یہ ہے کہ یہ مظلوم و بے سہارا معصوم بچے جن کے اخراجات حکومت گزشتہ کی دہائیوں سے اس لئے برداشت کر رہی ہے کہ یہ ہمارا مستقبل ہیں اساتذہ طبی و نفسیاتی معالج اپنا فرض اس لئے نبھا رہے ہیں کہ بہتر مستقبل کے حصول کے لئے یہ انکا بھی اخلاقی فریضہ ہے مگر یہاں اگر کوئی اپنے فرض سے غافل دیکھائی دیتا ہے تو وہ خود والدین ہیں جو ان معصوم روحوں کو فقط دنیا میں لا نا تو اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر ان کی ذہنی ضروریات سے قطعا غافل ہیں .کہ ایک بچے کی ذہنی و جسمانی نشو نما کے لئے والدین کی شفقت سے بھر پور پر امن گھریلو ماحول بہت اہمیت کا حامل ہے . گویا کہ ایک بچے کی نشو نما بھی ایک پودے ہی کی مانند ہے جس کے لئے ماں باپ کی شفقت اور ذہنی ہم آہنگھی وہ زرخیز زمین ہے جس میں یہ پودا مضبوطی سے جڑ پکڑتا ہے گھریلو ماحول وہ کھاد ہے جو اس کو تقویت فراہم کرتی اور پر امن و پرسکوں گھریلو فضاء اس کے لئے ذہنی خوراک یعنی کہ پانی اورآکسیجن کا کام کرتی ہے اگر ان میں سے کسی بھی چیز کی کمی بیشی پودے کی نشو نما کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے تو اسی طرح ایک ا نسان کی شخصیت کی تکمیل کے لئے گھریلو اب و ہوا کا ساز گار نہ ہونا وہ زہر قاتل ہے جو صرف اس کی شخصیت کو ہی نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ معاشرے کو خطرات میں ڈالتے ہوۓ مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے .

آج ہزاروں کی تعداد میں یہ معصوم و مظلوم بچے کہ جن کے تمام تر تعلیمی و جسمانی ضروریات زندگی کے اخراجات بے شک حکومت برادشت کر رہی ہے مگر والدین کی نا چاکیوں اور گھریلو تشدد سے بھر پور فضا کے سبب نفسیاتی الجھنوں کا شکار پرامن گھریلو ماحول سے محروم یہ معصوم بچے کل اس معاشرے اور ملک و قوم کو کون سا پر امن مستقبل دے سکیں گے ؟ کہ جن کو خود پیار نہ ملا وہ دوسروں پر محبت کیا نچھاور کریں گے ؟ جن کا دامن خود چھلنی چھلنی ہو ان کے ہاتھوں دوسروں کا دامن کیوں کر محفوظ رہ سکے گا ؟ جن کو خود کھبی امن نصیب نہ ہوا وہ معاشرے کو کیا امن دے سکیں گے ؟

کہ یہ تو ایک گمشدہ نسل ہے اور اس کے ہاتھوں میں کل ہمارا مستقبل بھی گمنام ہی سمجھئے .

گمشدہ نسل گمنام مستقبل

تبصرے 

 
+4 # ناصراحمد 2011-09-08 22:43
بہترین تحریر ہے۔ بہت پریشان کن حقیقت کو بڑے احسن طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین