صوبائی بندر بانٹ اور سندھ

  • پی ڈی ایف


کراچی کے حالات ایک زمانے سے بد ستور کشیدگی کی نقطۂ انتہا پر ہیں اور صاحب اقتدار کے کانوں پر جوں رینگنا تو درکنار ان کی تومنطق ہی نرالی ہے انہوں نے پورے سندھ کو کراچی کے ساتھ لا کھڑا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے کہ ان کی اداؤں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انھیں اگر کسی روز کراچی کی طرف سے آنے والی ہواؤں میں گولیوں کی کھنک بارود کی مہک دھماکوں کی گرج کے ساتھ ساتھ آنسوؤں کی نمی اور چیخ و پکار کی آمیزش محسوس نہ ہو تو گویا اپنی محنت غارت ہوتی دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں اور سیاست کے دوسرے حربے استعمال کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اورتو اور وہ شہر قائد کے خود ساختہ پاسبان سات سمندر پار بیٹھے ایم کیو ایم یعنی کہ مستقل قومی مصیبت نما چیز کے قائد الطاف حسین صاحب بہادر کو تو کچھ دن کراچی میں خاموشی ہو تو انھیں اسقدر تشویش لاحق ہو جاتی ہے کہ اپنے جیالوں میں فوری طور پر ایک مہاجر کی غیرت جگانے اور کراچی کا امن و امان بھگانے کے لئے دھواں دھار قسم کا فونک خطاب داغنا پڑجاتا ہے . اب جبکہ حکمران و سیاستدان قوم کے اتنے ہمدرد و غمخوار ہوں تو کراچی کے حالات سے بہتری کی توقعہ رکھنا تو گویا ایک دیوانے کا خواب ہی تو ہے .

ایسا نہ ہو کہ تمہارا بھی سر ٹھوکروں میں ہو

ہر شاخ اعتبار قلم کر رہے ہو تم

خیبر خواہ پختون اور بلوچستان میں مقتل غازیوں نے سجا رکھے ہیں تو کراچی و لاہور میں نفرت کے بارود کی بھٹیاں سیاستدانوں نے دہکا رکھی ہیں چاروں اطراف سے ایک تواتر سے بہتے لہو کے دریاؤں کے باوجود ان آدم خور سیاستدانوں کے خوں کی پیاس بجھتی دیکھائی نہیں دے رہی جو اب کی بار نظر کرم سندھ پر جماے بیٹھے ہیں کہ اب تک ایک سندھ ہی تو بچا ہوا تھا! سندھ جو کہ تہذہب و ثقافت کے حساب سے دنیا بھر کی پرانی تہذیب ہے، میں تو اس حد تک پڑھتی ہوں کہ پاکستان کی موجودہ جگرافیہ میں یہ اکیلا سندھ تھا جو دور کو نہیں جاتے ابھی ایک ہزار برس بھی نہیں گذرے ہونگے کہ یہ ایشیا کا ایک خوبصورت ملک تھا. جس میں موجودہ پنجاب بھی شامل تھا تو سرحد بھی، بلوچستان بھی تھا تو بھارت کے کچھ مغربی علاعقے بھی. جہاں امن اور خوشحالی اتنی تھی تمام سامراجوں کی آنکھ میں رہتا تھا مگر اسی سندھ میں بھی اب اسکا امن و سکوں بھی ہی دن کا مہمان نظر آتا ہے .

لگتا ہے کہ شاید ایک حد تک تو قصوروار سندھی خود بھی ہیں کہ بھلا کیا ضرورت پڑی تھی اس اونٹ کی صفت والے مہاجروں کو اپنے خیمے میں پناہ دینے کی ؟ جن کےہاں اخلاقی ضابطوں کا معیار قدرے مختلف ہے کہ سر چھپانے کی جگہ دو تو ملکیت حاصل کرنا یہ خوب جانتے ہیں . جن کے ہاں شاید احسان کا بدلہ محسن کی جان لے کر ہی چکایا جاتا ہے . کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کہ یہ نام و نہاد مہاجر آخر ہیں کون سی بلا ؟ آخر یہ مہاجر نام کی مخلوق جو ایک عرصۂ سے سندھ کے گلے میں ہڈی بن کے چبھ رہی ہے ایک عذاب کی سی صورت میں کون سے سیارے سے اتری ہے ؟ . ارے بھئی اگر مہاجر ہو تو مہاجر بن کر ہی رہو نا گھر والے بننے کی تگ و دو آخر کیوں ؟ جن انصاروں نے تمہیں گلے لگا کر اپنی دھرتی بخش دی انہی کے لہو سے ہاتھ رنگنے لگے جس دھرتی نے اپنی کوکھ سے تمہارے پیٹ کا ایندھن بھرا اسی کوکھ کو تم نے جلا ڈالا ؟؟ واہ کیا صلہ دیا ہے کہ سندھیوں کی تو اگلی کئی نسلیں مہاجر اور انصار کے اس رشتے سے عبرت ضرور پکڑیں گی. لیکن پھر بھی سندھیوں کا حوصلہ قابل دیدنی ہے کہ اب بھی وہ کہتے ہیں کہ بھائی صوبائی لحاظ سے اگر سندھی بن کر رہنا ہے تو ہم بھائی ہی ہیں... یہ لفظ مہاجر والا اب راگ نہ گاؤ تو!

اور دوسری طرف شریف برادران ہیں کہ جن سے اپنا گھر تو سنبھالے نہیں سنبھل رہا مگر مشورے دینے چلے ہیں پرائے گھروں میں بٹوارے کے کوئی ان گھر والوں سے بھی تو پوچھے کہ ان کی مرضی کیا ہے کہ جن کے گھر میں تم دیوار کھڑی کرنے کو تلے ہو . جب گھر والے ہی اس تقسیم پر راضی نہیں تو تمہیں یہ حق کس نے دے دیا ؟ پنجاب میں بغض و نفرت کی فصیلیں کیا کم کھڑی کر چکے جو اب رخ سندھ کی جانب موڑ لیا ؟ اگر ملک و قوم کے لئے کچھ کرنا ہی مقصود ہے تو سب سے پہلے اسمبلیوں کو ان سینکڑوں کی تعداد میں براجمان وزیروں اور مشیروں کی بھاری بھرکم بارات سے فراغت کا شرف کیوں نہیں بخشتے تا کہ انکی عیاشیوں کی نذر ہونے والے اضافی اخراجات کے بوجھ سے صوبائی بجٹ کو تھوڑا سا سکوں کا سانس مل سکے ؟ اور اگر پھر بھی یہ ہمدردی و غمخواری باقی بچی ہے تو ملک و قوم کے لوٹے ہوے کھربوں کے اثاثے واپس ملک میں لے آئیں اور بیرون ممالک لگی ہوئی فیکٹریاں اندروں ملک لگا لیں .

مگر نہیں یہ بھلا ایسا کیوں کرنے لگے یہ تو بس "خود تو بدلتے نہیں قران بدل دیتے ہیں" کے مصداق یہ ملک بھر میں چھائی یہ سالہا سال کی بد نظمی و بے اصولی صرف اسطرح صوبائی بندر بانٹ سے ہی دور کرنا چاہتے ہیں جس سے صورت حال بہتر تو درکنار الٹا خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو گی صوبائی و لسانی منافرت کو مزید تقویت ملے گی کہ اس کا حل صوبوں کی تقسیم ہر گز نہیں بلکہ واحد حل تو فقط اس فرسودہ ، بدبو دار اور زہر آلود نظام کو بدلنا ہے . مگر یہ ہمارے ہمدرد و غمخوار حکمران و سیاستدان اپنے اس کینسر زدہ نظام کو بدلنے کی طرف نہیں اتے ہاں صوبوں کو ہی ادھر ادھر کر کے اپنے فرائض سے ہمیشہ کی طرح سبکدوش ہونا چاہتے ہیں .

صوبائی  بندر بانٹ اور سندھ

تبصرے 

 
+2 # Mona 2011-08-17 00:57
waah MQM aur shreefon ko tu khoub ltaara hai.
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 
 
+4 # HUMAIRA 2011-08-17 12:53
Mustaqil Qoumi Museebat (MQM) waah kia khob tajuma kia hai party ki khasiyat kay bilkul mutabiq. wonderful..
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 
 
+5 # جے علی 2011-08-17 22:14
عفاف صاحبہ، زبردست لکھا ہے آپ نے.
لیکن میں تو اس سوچ میں ہوں کہ اگر فطرت میں ماکافات عمل موجود ہے.. (جو کہ انتہائی دھیمی رفتار سے کام کرتا ہے) اور اگر رجعت فطرت کی ترقی کا سبب بنتی ہے تو کیا یہ بندر بانٹ ایک انسانی غلطیاں نہیں؟
اور تو اور میں تو یہ تک محسوس کرتا ہوں کہ فطرت "ارتقا" تو تسلیم کرتی ہے، لیکن خود "انقلاب" جیسے مجھے فطرت کے قوانین کے خلاف محسوس ہوتا ہے. ہاں انقلاب سے ایک جمود کو دھکا مل جاتا ہے لیکن پھر وہ ہی جامد سماج چلنے کے قابل ہوجاتا ہے... لیکن آگے چل کر وہ انقلاب بھی جیسے دیومالائی کہانی جیسا لگتا ہے..
آپ دیکھ لیں...
آج سے چودہ برس پہلے اہل عرب میں ایک انقلاب آیا... اسلام کی شکل میں. لیکن آپ نے دیکھا اس وقت وہ ہی قوم پھر سے اسی ڈگر پر کھڑی ہے جہاں قبل از اسلام تھی.
فرانس انقلاب نے ایک جمود بھرے سسٹم کو ہلا کے رکھ دیا لیکن آگے چل کر پھر اس نعرے کو تو چھوڑا گیا جس کے بل بوتے پر انقلاب فرانس رونما ہوا تھا.
روس کا انقلاب دیکھیں... 1990 میں ڈھڑام سے گر گیا....
زمین ہر اس چیز کو الٹی کر کے باہر نکال دیتی ہے جو اس کے قوانین کے خلاف ورزی کرتا ہے...
بس افسوس ہے کہ یہ رفتار بہت دھیمی ہے... اور اسی دھیمی رفتار سے سامراج اور کمینے آدمی اپنا مقصد نکال کر قبرگیر ہوجاتے ہیں.... ان سے سبق بھی در حقیقت وہ ہی لے سکتے ہیں جو انتہائی دھیمے مزاج کے لوگ ہوں، جن کے پاس تاریخ کا علم ہو اور جن کے دل و دماغ فطرت کی طرح کشادہ ہوں.
کراچی کو ہی لیں:
یہ کل کا "کولاچی" ایک گاؤں ہی تھا... پھر اس پر آبادیات ہونا شروع ہوگئی.. مزے کی بات یہ ہے کہ اس پر گوروں نے بھی اتنا کام نہیں کیا. کل پاکستان کو اسی کی اسمبلی نے سب سے پہلے لبیک کہا، یہاں ہی بالکل خیریت سے مہاجریں بھائی آئے.. جو فلیٹس بنگلوں میں رہنے لگے.. لیکن اس کے پسینے کی طرح (جو کبھی سوکھتا) یہاں آکر سئنتالیس کے بعد اب تک یہ کیداری راگ گایا جاتا ہے کہ ہم مہاجر ہیں... یعنی اب بھی وہ مہاجر ہیں...!
لیکن فطرت کے قوانین کو اگر دیکھیں تو کہیں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ "مکافات عمل" تو نہیں؟
جواب دیجئے | اقتباس سمیت جواب دیجئے | اقتباس | مدیرکومطلع کریں
 

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین