آئینہ

  • پی ڈی ایف

آج صبح اپنے آفس کی طرف آتے راستے میں لوگوں سے بھرے ویٹنگ روم کا جائزہ لیتے ہوے میری نظر لمحہ بھر کو ایک پاکستانی نوجوان پر آ کر ٹھہر گئی اسکے مسلسل ہلتے لب ، آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو بار بار صاف کرتے غمگین سے چہرے پر کی بے پناہ اداسی تھی . ذرا قریب سے گزری تو میرے قدم درود شریف کا ورد کرتی اسکی درد بھری آواز نے گویا جکڑ لئے . نجانے کیسا درد تھا اس کی آواز میں کہ میرے پورے بدن میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی . وقت کا تقاضہ ہی ایسا تھا کہ نہ چاہتے ہوے بھی میں اپنے من من بھاری قدم لئے افس کی جانب بڑھ گئی . کچھ دیر بعد کام سے ذرا سی فراغت پاتے ہی واپس آئی تو وہ جا چکا تھا مگر درود شریف ک وہ درد بھرا ورد میرے دل و دماغ میں گونج رہا تھا اور میں ایک عجیب سی بےچینی کی گرفت میں تھی مزید آفس میں بیٹھا نہ گیا تو کچھ دیر تنہائی میں گزارنے حسب معمول ایک قریبی قبرستان کا رخ کیا.

ٹھنڈی ہوا اور قبرستان کے گہرے سکوت میں گہری سانسیں لیتے اسی نوجوان کے بارے میں بدستور سوچتی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی قبرستان کے ایک کونے میں گھنے درخت کے نیچے اپنے مخصوص بنچ کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے کسی کو بیٹھے دیکھ کرجھنجلا واپس مڑنے ہی کو تھی کہ اسی درود شریف کا ورد کرتی درد بھری آواز نے میرے قدم پھر جکڑ لئے . اس نے بھی میری آہٹ محسوس کرتے ہوے فورا ہاتھ میں پکڑی تصویر اپنی جیب میں ڈال لی اور ادھر ادھر سر گھما کر انگلش میں پوچھنے لگا " ہو از ہیر ؟ از سم ون ہیر ؟ مجھے اسکی حرکت پر ایک غیر متوقعہ سا جھٹکا لگا.... کہ وہ تو نابینا تھا . میں نے اس کے پاس بینچ پر بیٹھے ہوے " اسلام و علیکم " کہا تو اس کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی ، کیا آپ مسلمان ہیں ؟ ، کیا آپ پاکستانی ہیں ؟ پاکستان میں کہاں سے ہیں ؟ کیا آپکا کوئی عزیز یہاں دفن ہے ؟ میرا نام احمد ہے . اس نے ایک ہی سانس میں اپنا نام بتاتے ہوے مجھ سے ڈھیروں سوال کر ڈالے . میں نے اسکے آنسوؤں سے بھیگے مسکراتے چہرے پر نظر ڈالتے ہوے کہا جی میں پاکستانی ہی ہوں اور اس قبرستان میں میری بہت عزیز چیز دفن ہے میرا ذہنی سکوں کہ جب کبھی میرا اس مصروف زندگی کے ہنگاموں سے دل بھر جاتا ہے تو پرسکوں ہونے کیلئے چند لمحے تنہائی میں گزارنے یہاں چلی اتی ہوں . اس نے بےاختیار پوچھا باجی کیا آپ کسی بات کو لے کر پریشان ہیں ؟ آپ اگر چاہیں تو مجھ سے بات کر کے اپنا دل ہلکا کر سکتی ہیں . میں نے کچھ توقفف کے بعد کہا احمد بھائی، .... سچ کہوں تو پریشانی کوئی بھی نہیں ہاں مگر آج ہی کچھ گھنٹے پہلے آپکو اپنے افس میں دیکھا تھا وہاں وقت اور قانونی بیڑیوں میں بندھی تھی کہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی آپ سے کوئی بات نہ کر پائی تب سے ایک عجیب سی بے چینی کا عالم تھا ایک بے بسی سی تھی کہ کام میں بھی دل نہ لگا اور بے اختیار ہو کر یہاں کھچی چلی آئی اب یہاں آ کر احساس ہوا کہ یہ بے اختیاری بلاوجہ نہیں تھی شاید کہ در پردہ قدرت آپ سے دوبارہ ملوانے کا بندوبست کر رہی تھی .

اب کہ اس نے حیرانگی سے کہا ... اچھاتو آپ وہاں کام کرتی ہیں ؟ .جی، میں نے کہا ..... اور پھر اس نے آنکھوں میں اتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوے کہا باجی میں اندھا ضرور ہوں مگر بہت کچھ محسوس کر سکتا ہوں اپ کی اس بات سے مجھے لب دم انسانیت میں زندگی کی رمق محسوس ہوئی ہے . جی آج میں اپنی طلاق کے کاغذات فائل کروا کر آ رہا ہوں اسی کے لئے کچھ پولیس رپورٹس درکار تھیں جو وہاں جانا ہوا . آج میں ایک ایسے درد سے گزر رہا ہوں جیسے کہ انسا ن خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ٹانگ یا بازو کو کاٹ لے . مجھے اپنی بیوی سے بہت پیار ہے اسکے بنا زندگی کا کبھی نہ سوچا تھا مگر اب اس کے ساتھ رہنا بھی تو ممکن نہیں رہا میرا پانچ ماہ کا بیٹا ہے اسے اسکی ماں سے الگ کر کے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور ساتھ رکھ کر بچے کو کھونا بھی نہیں چاہتا .....زندگی کے ایک ایسے پل صراط پر کھڑا ہوں دونوں جانب گہری کھائیاں ہیں اور میں ایک اندھا .

میں عجیب سی کشمش میں تھی کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ..اس نے خود ہی میری خاموشی کو بھانپتے ہوے کہا باجی میں دو سال قبل پاکستان سے ٹورانٹو اپنی بیوی کے سپانسر کرنے پر ایا تھا بچپن میں ہی ماں باپ کو کھو دیا دکھوں اور یتیمی کی زندگی نے آنکھوں کی قربانی بھی لے لی .اپنے اندھیروں میں ہی جی رہا تھا کہ ایک قریبی دوست نے میرا رشتہ یہاں ایک پہلے سے ہی طلاق یافتہ بیس سالہ لڑکی سے کروا دیا میں نے سوچا میں معذور ہوں اور لڑکی مظلوم دونوں ایک دوسرے کو سنبھال لیں گے اور یہاں آ گیا . میری بیوی بہت اچھی ہے ایک اندھے کو اور چاہیے بھی کیا اگر نیک سیرت بیوی مل جاۓ تو ؟میں قسمت کی اس مہربانی پر بہت خوش تھا . ابھی شادی کو چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ میری بیوی پر ایک عجیب سا دورہ پڑا وہ اپے سے باہر ہو گئی ، منہ سی عجیب عجیب خوفناک سی آوازیں نکل رہی تھیں چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگی چوٹیں مجھے بھی لگیں جیسے تیسے گھبرا کر سسرال والوں کو فون کیا اور ساس سسر نے آ کر کہا کہ کوئی بڑی بات نہیں اس کے پہلے سسرال والوں نے اس پر بہت ظلم کیا تھا اسی لئے یہ ابھی تک صدمے کی حالت میں ہے . مجھےاپنی بیوی پر بہت ترس آیا . اور پھر میں کوئی بھی کسر نہ چھوڑتا تھا اپنے پیار میں تاکہ وہ اس صدمے سے جلد از جلد باہر نکل آئے. اب ایک طرف وہ ماں بنانے والی تھی تو دوسری طرف اس کی حالت دن بہ دن بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی میری سمجھ سے باہر تھا کہ کروں تو کیا کروں کہ سب کچھ تو میں کر رہا تھا ، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہتا تو سسرال اڑے آ جاتے کہ کچھ وقت اور دو سنبھل جائے گی .

جیسے تیسے دن گذرتے گئے . اور اب کہ دورے ہفتے میں کئی بار پڑنے لگے کئی بار اس نے میرا سر بھی پھاڑا کہ میں اندھا ہونے کی وجہ سے خود اپنا دفاع تک تو نہ کر سکتا تھا . پھر ایک دن میں اسے گھمانے شاپنگ پلازہ میں لے گیا جہاں اس کی حالت ایک دم بگڑ گئی اور اس نے ارد گرد کے لوگوں پر چڑھائی کر دی تشدد کے خوفناک مظاہرے کئے کہ پولیس آ گئی اور میری بیوی کو بیڑیاں ڈال کر دماغی امراض کے ہسپتال پہنچا دیا گیا وہاں جا کر مجھ پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ میری بیوی شیزوفرینیا کی ایک پرانی مریضہ ہے اور دوا میں بے قا عد گی کی وجہ سے حالت بگڑتی جا رہی ہے اور اب معاملہ خطرناک حد تک آ پہنچا ہے . مجھے بیوی کی حالت پر صدمہ تو بہت تھا مگر اتنا نہیں جتنا اس دھوکے پر جو مجھے اب تک لا علم رکھ کر دیا گیا تھا...کہ ا گر ابتدا میں حقیقت معلوم ہوتی تو کم سے کم دوا میں بے قا عد گی تو ہر گز نہ ہونے دیتا . سسرال سے گلہ کیا تو الٹا میرے ہی گلے پڑا کہ میں انکی بیٹی کو چھوڑنے کے بہانے بنا رہا ہوں ، اور یہاں انے کے لئے انکی بیٹی کا استعمال کیا ہے اب بچے کی ماں بنا کر چھوڑنا چاہ رہا ہوں وغیرہ وغیرہ ..... اور پھر میں خاموش ہو گیا خاموشی سے سب کچھ سہتا رہا ...اور پھر میرا بیٹا پیدا ہوا ہسپتال میں بیوی کی حالت پھر بگڑ گئی نہ صرف میرا سر پھاڑا بلکہ بچہ بھی اٹھا کر دیوار سے دے مارا ، جس پر پولیس نے سخت رد عمل دکھایا نہ صرف بچہ اپنی تحویل میں لے لیا بلکہ میری معذوری کو مد نظر رکھتے ہوے میرا اس کے قریب جانا بھی بند کردیا ... ادھر میں قانون کے ہاتھوں مجبور تھا تو ادھر سسرال والوں نے دباؤ ڈالنا شرو ع کر دیا کہ میں انکی بیٹی کے ساتھ رہوں یا پھر اسے طلاق دے دوں .

وہ اپنے مسلسل بہتے آنسووں کو صاف کرتے ہوے اپنی داستان سنا رہا تھا کہ ہاتھ میں پکڑی اپنی بیوی بچے کی تصویر سیدھی کر کے کہنے لگا باجی ! آج میں اپنی زندگی کے ہاتھوں ہار گیا ہوں ، کہ آج لاکھ نہ چاہتے ہوۓ طلاق کے کاغذات فائل کروا کر اپنے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دینے کے اذیتناک درد سے گزر رہا ہوں . اس کی بات غور سے سنتے ہوے جیسے ہی تصویر پر میری نظر پڑی تو میں بری طرح چونکی اور بے ا ختیار میرے منہ سے نکلا " صائمہ " اب کہ چونکنے کی باری اس کی بھی تھی حیرانگی سے پوچھنے لگا ، باجی ! کیا آپ میری بیوی کو جانتی ہیں ؟... وہ نجانے کیا کیا سوال پوچھ رہا تھا اور میرے منتشر دل و دماغ خزاں سے گرتے سوکھے پتوں کی مانند ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے تھے جو میرے وجود کو اڑا کر کئی برس پیچھے ماضی میں لے گئے جہاں وہ سولہ سترہ سال کی ڈری سہمی نازک سی صائمہ جو یوں تو بہت کم بولتی تھی مگر جب بھی مجھ سے ملتی تو میرے کالمز پر بھر پور تبصرہ کرنا نہ بھولتی تھی . اکثر کہتی تھی باجی جو بھی میرے دل میں ہوتا ہے سب کچھ تو آپ لکھ دیتی ہیں .... اور میں جواب میں مسکرا دیتی . ایکدن اس سے ملاقات ہوئی تو اس کے معصوم و غمگین چہرے پر بلا کی اداسی تھی ...کیا ہوا صائمہ ؟ میں نے پوچھا ...تو سرد و اداس لہجے میں جواب ملا ..باجی ہونا کیا ہے وہی جو بچپن سے اب تک ہوتا چلا آ رہا ہے .. کیا ؟ میں نے بے اختیار پوچھا ... پھر میرے امی ابو میں جنگ اور کیا باجی ...اوہ تو ؟ وہی روز روز کی جنگ روز روز کی مار کٹائی کبھی ابو نے برہم ہو کر بڑے بھائی کا سر پھوڑا تو کبھی چھوٹے بھائی کا ہاتھ جلا ڈالا . اور امی کی پٹائی تو روز کا ہی معمول ہے یہی سب تو دیکھ کر جوان ہوئی ہوں باقی سب بہن بھائیوں کو تو عادت سی ہو گئی ہے اس روز کے معمول کی مگر نجانے مجھے کیوں عادت نہیں ہوتی یہی تو رونا ہے .. اور اب کہ میں بھی لا جواب تھی .

ایک دن پھر وہ ملی زرد زرد سی مرجھائی سی لگی پوچھنے پر کہنے لگی باجی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی اور پھر یہ سن کر تو میں ساکت سی ہو گئی تھی کہ صائمہ شیزوفرینا کی مریضہ تشخیص ہو چکی ہے . اور پھر اسی طرح اڑتے اڑتے خبر ملی کہ صائمہ کی شادی کر دی گئی ہے جہاں حیرانگی تھی وہاں بہت افسوس بھی ہوا تھا کہ اس نسل در نسل چلنے والے مرض میں مبتلا شخص کی شادی کر دینا تو گویا اگلی نسل کے لئے گڑھا کھودنے کے مترادف تھا . لیکن کیوں کہ ہماری جہالت کے ہاتھوں سب کچھ ہی ممکن ہے سوچ کر خاموش رہی .پھر صائمہ کی طلاق کی خبر بھی سنی اور دوسری شادی کی بھی مگر پھر دوبارہ کبھی اس سے میری ملاقات نہ ہو سکی . میں کئی برس پیچھے ماضی میں ڈوبی دل ہی دل میں نوحہ کناں تھی کہ اس کی آواز نے میرا سکوت توڑا اور ماضی نے واپس حال میں لا پٹخا ، باجی کچھ تو بتائیں کہ آپ ہیں کون ؟ کیسے جانتی ہیں صائمہ کو ؟ نام کیا ہے آپکا باجی ؟ ایک ٹھنڈی اہ بھرتے ہوےمیں نے اس کو اپنا نام بتایا ... اور اب کہ وہ میرا نام بار بار دہرا کر کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا پھر ایک دم سے میرا پورا نام لیتے ہوۓ بولا باجی آپ وہی ہیں نا جو کالم بھی لکھتی ہیں ؟ جی میں وہی ہوں احمد بھائی .... اب اس کے چہرے پر ایک خوشی کی لہر آئی اور کہنے گا باجی آپ کے کالم صائمہ کو بہت پسند تھے ، جب اچھے موڈ میں ہوتی تو مجھے پڑھ کر سناتی تھی آپکا ذکر بہت پیار سے کرتی تھی .باجی شاید خدا نے میری سن لی جو آج آپ کو یہاں بھیج دیا ... ..اور پھر اگلے ہی لمحے وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا بھیگی آنکھوں سے اپنے دونوں ہاتھ میرے سامنے جوڑے التجا کر رہا تھا....باجی آپ صائمہ کے والدین سے بات کریں گی انھیں سمجھا یں گی ؟... میری خاطر صائمہ کی خا طر میرے معصوم سے بچے کی خاطر... باجی آپ تو صائمہ کو بھی پیار سے باقائدگی سے دوا لینے پر قائل کر سکتی ہیں ، خدا کے لئے باجی میرا ٹوٹتا ہوا گھر بچا لیں . یہ مجھ اندھے پر آپ کا بہت بڑا احسان ہو گا ...مجھے ایک بار پھر اندھا ہونے سے بچا لیں باجی ......

اور میں ایک عالم اضطراب میں تھی چیخ چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ ..." اندھے تم نہیں اندھے تو ہم ہیں .....یہ آنکھوں والوں کی دنیا تم سے کہیں زیادہ اندھی ہے میرے بھائی ..... معذور تم نہیں معذور تو ہم ہیں ....تم تو ہم سے کہیں بہتر ہو فقط دیکھ ہی تو نہیں سکتے , محسوس تو کر سکتے ہو ! کہ ہم بد نصیب دل و دماغ کے اندھے ہیں جودیکھ تو سکتے ہیں مگر محسوس کرنے سے قاصر ہیں ...تم تو صرف جسمانی آنکھوں سے محروم ہو, مگر ہم بد بخت روحانی آنکہ سے محروم ہیں ....کہ جس مظلوم پر اس کے پیدا کرنے والے بظاھر آنکھوں والے والدین ہی نے رحم نہ کھایا، اس پر اب تم کیا ترس کھاؤ گے ؟ ...بیس برس تک جسے اسکے اپنے خون کے رحمی رشتوں نے ڈسا ہو اس بد نصیب کے لئے تمہارا یہ دو سال کا پیار کیوں کر امرت بن پائیگا ؟... تم کیا جانو جس بیماری کو تم دواؤں سے دور بھگانے کی کوششوں میں ہو اس کی زہر آلود جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اگر کھودنے لگو گے تو یہ بہت سے نام و نہاد آنکھوں والوں کے اخلاق و کردار کے تمام تر بخیے ادھیڑ کر معاشرے کے ان تناور درختوں کو یک لخت زمین بوس کر ڈالیں گی.

آئینہ

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین