کالا نصیب

  • پی ڈی ایف

آج آفس میں آتے ہی میری میز پر پڑی ٹورانٹو سٹار کی یہ شہ سرخی میرا منہ چرا رہی تھی کہ " ٹورانٹو کے ایک چھبیس سالہ پاکستانی نوجوان باورچی میزان احمد کو اپنی تئیس سالہ بیوی تہمینہ یاسمین کا گلہ گھونٹ کر مارنے پر عدالت نے سزا سنا دی " اٹھائیس اگست دو ہزار آٹھ کو دس دن کے نومولود بچے کی ماں تہمینہ یاسمین اپنے گھر کے باتھ روم ٹب میں سکارف سے گلہ گھونٹنے کے سبب مردہ پائی گئی . گھر میں ساتھ رہتے سسرالی رشتہ داروں کے تمام تر بیانات جن کے مطابق تہمینہ اس سے قبل بھی متعدد بار خود کشی کی کو ششیں کر چکی تھی اور موقعہ واردات پرتمام تر شواہد تہمینہ کی موت کو خود کشی ثابت کر چکے تھے . مجرم لاکھ ہوشیار سہی مگر جرم اپنا سراغ چھوڑ ہی جاتا ہے کے مصداق سال بھر سے بند خود کشی کی یہ فائل چند ماہ پہلے پتھالوجی کی اس رپورٹ پر دوبارہ کھل گئی جس کے مطابق تہمینہ کی گردن میں لپٹے سکارف کا زاویہ مشکوک تھا .اور اس واحد کڑی نے چند ماہ کی تفتیش کے بعد تمام تر کیس کا زاویہ ہی بدل ڈالا . جہاں تہمینہ پر سسرالی رشتہ داروں کے جسمانی و ذہنی تشدد کے واقعات منظر عام پر آئے وہاں اسے شوہر کی طرف سے بھی بار ہا جسمانی تشدد کا سامنا رہا اور بلا آخر چھبیس سالہ میزان احمد نے عدالت کے سامنے اقبال جرم کیا اور بیوی کے گلہ گھونٹ کر مارنے پر سزا سنا دی گئی . اور انکے دس دن کے نومولود بچے کے لئے گھریلو حالات کو ساز گار نہ پاتے ہوے عدالت نے ایک ضرورت مند خاندان کو گود دینے کا فیصلہ سنا دیا .

میں اخبار کی یہ سرخی کہ " سزا سنا دی گئی " پر بار بار نظر دوڑا کر بدستور سوچ رہی تھی کہ کہ سزا سنا تو دی گئی مگر ملی کس کو ؟ کہ تہمینہ تو مر گئی اور اسکا شوہر اس جرم میں جیل چلا گیا ہاں سزا سنائی تو ضرور گئی مگر ملی تو فقط اس نو مولود کو کہ جس کے دنیا میں آ نکھ کھولتے ہی اس کے اپنے بد بخت باپ نے اس معصوم سے ماں کی گود چھین لی اور خود اپنے جرم کی پاداش میں جیل چلا گیا مگر سزا ملی تو اس معصوم کو جس کے پاس نہ ممتا کا آنچل رہا نہ شفقت پدری . میں جانتی ہوں کہ یہ کوئی ایسی انہونی نہیں جو ہمارے معاشرے میں پہلی بار ہوئی ہو کہ یہاں تو بقول غالب .

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے --- ہوتا ہے شب روز تماشا میرے آگے

کہ آج تہمینہ پر بیتی ظلم کی یہ داستان پڑھتے ہی مجھے نجانے کیوں ثُمَن کی یاد آ گئی جو کہ روزانہ میری نظروں کے سامنے دردناک و طویل فلم کی طرح چلتی زندگی کی حقیقی داستانوں میں سے وہ بھی تو ایک تھی جب ہسپتال میں لائی گئی ایک زخمی نوجوان پاکستانی لڑکی کی حالت دیکھ کر میرا دل ڈوبا جا رہا تھا ساوتھ ایشین سماجی کارکن اور پولیس کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ بار بار یہی بیان دے رہی تھی کہ اسکے یہ زخم سیڑھیوں سے پاؤں پھسلنے کے سبب ہیں . لیکن زخموں کی نو عیت خود چیخ چیخ کر اسکے تمام تر بیانات کی تردید کر رہی تھی . اسکے زرد چہرے پر زخموں سے کہیں زیادہ درد بچے کو پیدایش سے پہلے کھو دینے کا تھا ، تو حقائق کی پردہ پوشی کرتی اسکی زبان پر جھوٹ کی لڑکھڑاہٹ ، نم آنکھوں میں بے پناہ اداسی ، چہرے پر غم کے گہرے سیاہ بادل . اسکے قلب و ذھن میں چھڑی اس گھمسان کی جنگ کی بھر پور عکاسی کر رہے تھے کہ جسے پہچانے کے لئے مجھے فقط ایک نظر ہی کافی تھی .

میری رازداری کی ضمانت کے بعد ذرا سی اظہار ہمدردی پاتے ہی وہ پیڑ سے گرتی ایک سوکھی شاخ کی مانند میری بانہوں میں جھول گئی ضبط کے تمام تر بندھن ٹوٹ گئے آنسوؤں کا ایک سیلاب بہہ نکلا . کچھ دیر دھواں دھار رو لینے کے بعد وہ مجھ سے یوں مخاطب ہوئی" باجی ہم عورتیں تو پیدا ہی مردوں کے جوتے کھانے کے لئے ہوتی ہیں ، نصیب کالا ہو تو عورت کی بھی کیا زندگی ہے ؟ ایک غریب گھرانے میں دس بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی بارہ برس کو پہنچی تو والدین کو دن رات شادی کی فکر ستانے لگی کسی دور پار کے رشتہ دار کے امریکا کا یہ رشتہ بتانے پر پندرہ برس میں ہی اس ان دیکھے شخص سے بیاہ دی گئی جو میرے باپ کی عمر سے بھی بڑا ہے . پہلی دو بیویوں سے بنی نہیں بچے مجھ سے بڑے ہیں اور میں اسے ہی اپنی قسمت سمجھ کر چپ ہو گئی نیو یارک آئی تو پتا چلا کہ میرا مرد کوئی ڈھنگ کا کام دھندہ نہیں کرتا کچھ دن مزدوری کرتا اور پھر کئی دن نشہ کر کے سویا رہتا ہے مجھے کہنے لگا کہ اگر ساتھ رہنا ہے تو کما کر لاؤ اور پھر ایک دن اپنا ادھار اتارنے کے لئے کسی دیسی ہوٹل میں میری مزدوری کی بات کر آیا . میں نے سوچا کہ چلو کچھ دیر گھر سے باہر رہوں گی روز روز کی مار کٹائی سے جان چھوٹے گی اور کسی نہ کسی طرح کیش بچا کر پیچھے ماں باپ کی مدد بھی کر دیا کروں گی . مگر وہ کام سے گھر اتے ہی مجھ سے رقم تک تو چھین لیتا تھا باہر سے مزدوری کر کے آؤ اور پھر گھر کے کام میں جت جاؤ اس پر بھی وہ مار دھاڑ یہی تو زندگی تھی . مگر کیا بتاؤں آپکو باجی کہ میرا تو نصیب ہی کالا ہے .

ایک دن کام سے گھر آئی تقریبا آدھی رات ہونے کو تھی مرد نشہ میں دھت تھا اور گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہ تھا نہ بریڈ نہ دودھ نہ کچھ اور مرد کو نشے میں دیکھ کر سوچا اس کو کیا کہوں پہلے تو مارے گا پھر اگر چلا بھی گیا تو کیا پتا اس حالت میں کوئی ایکسیڈنٹ ہی نہ کروا بیٹھے خود ہی جیسے تیسے پاس کے سٹور سے ضرورت کی چیزیں لینے کو نکل گئی واپس گھر آ رہی تھی سنسان گلی میں کسی نے پیچھے سے دبوچ لیا چار ہٹے کٹے کالوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور بے یار و مددگار ایک اندھیری گلی میں تڑپتا چھوڑ گیۓ ہوش آیا تو ہسپتال میں تھی بچہ پیدا ہونے سے پہلے کھو چکی تھی اور اس پر میرا مرد میری شکل تک دیکھنے کو تیار نہ تھا . بڑی منت سماجت کی میں نے اپنے مرد کی کہ طلاق مت دو صرف گھر کے ایک کونے میں ہی پڑا رہنے دو کچھ نہیں مانگتی کچھ نہیں کہتی کہ اگر طلاق ہو جاتی تو میرے غریب ماں باپ دکھ نہ سہ نہ پاتے اور کنواری بہنوں کے رشتوں کا کیا بنتا ؟

کچھ ماہ گزرے پھر مرد کہنے لگا کہ اسے وہاں اپنے محلے میں سے گذرتے ہوے اب شرم اتی ہے اور منہ چھپانے کے لئے وہ ٹورانٹو شفٹ ہو گیا . مگر باجی اب تو وہ پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے اور بات بے بات مجھ پر تھوکتا ہے اور گندگی کے ڈھیر ہونے طعنے بھی دیتا ہے نصیب کا لکھا سمجھ کر سب کچھ سہ رہی ہوں کہ ابھی کچھ دن ہوے تھے کہ پتا چلا کہ میری کوکھ میں پھر کوئی جان پل رہی ہے بہت خوشی ہوئی کہ چلو میرے دکھوں کا بھی کوئی ساتھی ہو گا جسے دیکھ کر باقی زندگی جی سکوں گی مگر یہاں بھی میرا کالا نصیب اڑے آ گیا اور جب میرے مرد کو یہ پتا چلا تو اس نے غصے میں زور زور سے اپنے ٹھڈے میری پسلیوں میں مارے کہ اسے میرے اس غلیظ بطن سے کوئی نسل نہیں لینی . وہ ٹھنڈی آہیں بھرتی تواتر سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ ایک تسلسل میں اپنے کالے نصیب کو کوستے ہوے مجھے اپنی اب بیتی ایسے سنا رہی تھی کہ گویا پھر اسے یہ موقعہ دوبارہ نہ ملے گا . اور میں اس کے چہرے پر ٹکٹکی باندھے دل و دماغ میں نشتر کی مانند چبھتے اس کے الفاظ میں سلگتی حقیقت کو ہضم کرنے کی نا کام کوشش کرتے ہوے سوچ رہی تھی کہ یہ کالا نصیب ہمیں کتنی صدیاں اور بیوقوف بناے گا ؟

کالا نصیب

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین