گھریلو تشدد اور ہمارے رویے

  • پی ڈی ایف

دن بدن بڑھتے گھریلو مسائل اور پر تشدد گھریلو فضاؤں سے آج کوئی بھی آنگن محفوظ نظر نہیں آتا اس پر سونے پر سہاگہ ہمارے مخصوس تنگ نظر معاشرتی رویے جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں . بیشک کہ ایسے حالات و واقعات پر غور و فکر کرنا ہر زی شعور انسان کا فرض ہے مگر حقیقت حال کو وسعت نظر سے جانچنا تصویر کے دونوں رخ غیر جانبداری سے پرکھے بنا مناسب حل کی تلاش کیوں کر ممکن ہے ؟ کہ بلی کو سامنے دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں موندھ لینے سے سر پر منڈلاتی موت ٹل نہیں جایا کرتی . کسی بھی حل تک پہنچے سے پہلے یہ حقیقت مد نظر رکھنی از حد ضروری ہے کہ ہر مذہب معاشرے اور ملک و قوم کی ترقی اور ذہنی پختگی کا راز وہاں کے افراد کے علمی معیار مثبت سوچ اور ذہنی پختگی پر منحصر ہوتا ہے اور فرد واحد کا سطحی سوچ اور ذاتی مفادات کا مد نظر رکھنا اس معاشرے اور ملک و قوم کو تنزل کی جانب دھکیلتے ہوے ترقی کی تمام راہیں مسدود کرنے کا سبب بن جاتا ہے .

آج امت مسلمہ کی معاشرتی ذلت و بربادی کی حقیقی وجہ یہی جہالت علمی ناقدری سطحی سوچ اور مفاد پرستی ہی تو ہے . یہ بہترین امت بہترین مذہب کے جھنڈا بردار مشرقی روایات کے پاسدار بظاھر روحانیت کے تاج پہنے یہ معاشرے اپنے اندر کتنے غلاظت کے ڈھیر چھپائے بیٹھے ہیں اس کا اندازہ وہاں سے اٹھتی بدبو سے با خوبی ہو جاتا ہے . گندے غلیظ پانی کے جوہڑ کی مانند یہ معاشرے اپنی بدبو اور تغفن سے ارد گرد کی اب و ہوا کو بھی آلودہ کر رہے رہے ہیں . چاروں اطراف علم و ٹیکنالوجی کے بہتے دریاؤں کے سامنے جہالت کی غلاظت سے بھرے جوہڑ کی مانند ہیں جو مسائل کے بحر بیکراں میں سر تا پا ڈوبنے کے باوجود ایسے اندھے گونگے اور بھرے ہیں کہ ایک طرف ڈوب کر مرنا نہیں چاہتے تو دوسری طرف تیراکی کا ہنر سیکھنے کی بجاے مسائل کے ان سمندروں کو مذہبی ملاؤں کے تعویزوں کی کرامات سے پار کرنے پر مصر ہیں . وہ ملا کہ جن کے نزدیک گھریلو مسائل کا حل حقوق کی پاسداری نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی اور کم عمری کی شادیوں میں ہے عورتوں کو ایسی بھیڑ بکریاں بنانا مقصد ہے جن کے منہ میں زبان نہ ہو اور سر مزاجی خداؤں کے سامنے سجدے سے نہ اٹھیں . مذہبی نا خداؤں نے مساجد کے نام پر مذہبی دولے شاہ کے چوہے پیدا کرنے کی جو فیکٹریاں ایک زمانے سے کھول رکھی ہیں اس کا خمیازہ آج پورا معاشرہ بھگت رہا ہے.

ابھی گزشتہ دنوں ایسا ہی ایک اتفاق ہوا جس نے مجھے عجیب سے دوراہے پر لا کھڑا کیا . ایک پانچ سالہ پاکستانی بچے کے سکول کی رپورٹ کے مطابق بچے کی ذہنی حالت مشکوک ہے کہ کلاس میں بیٹھے بیٹھے اکثر اس پر تشدد کا دورہ پڑتا ہے اور وہ دوسرے بچوں پر چڑھ دوڑتا ہے جو کہ ابھی ابتدائ مراحل ہیں ہے لیکن توجہ نہ کی گئی تو معاملہ بگڑ سکتا ہے بچے کے تمام میڈیکل چیک اپ کروائے گئے اور پھر سارا معاملہ ایک نفسیاتی معالج کے زیر نگرانی آیا جسے شک تھا کہ یہ بچہ ذہنی طور پر کسی شدید الجھن کا شکار ہے مگر کچھ بتانے سے گریزاں ہیں جو کہ بچے کی ذہنی حالت کے لئے خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے . اور پھر پاکستانی ہونے کے ناطے اس بچے کو مجھ سے ملوایا گیا اسکی معصومیت اور دل موہ لینے والی ادائیں دیکھ کر میرا دل یہ قطعا ماننے کو تیار نہ تھا کہ یہ بچہ ذہنی طور پر ایک خطرناک موڑ پر ہے . معصوم سا فرشتہ جو لمحہ بھر میں مجھ سے ایسا گھل مل گیا کہ گود میں بیٹھا طرح طرح کے سوالوں سے میرا دل بہلا رہا تھا اور دوسری طرف میرا دماغ اسکی نفسیاتی رپورٹوں میں الجھا حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش میں مگن تھا . کہ ایک دم سے بچے نے میری مکمل توجہ خود پر نہ پا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ اپنی طرح کر کے کہنے لگا انٹی آپ بہت اچھی ہو میری دوست لگتی ہو میرا ایک کام کرو گی ؟ میں چونکی پوچھا کیا کہنے لگا پہلے پرومس کرو انٹی کرو گی نآ ؟ پرومس می انٹی جسٹ پرومس می اب اسکے لہجے میں ایک التجا تھی میں نے فورا کہا ہاں ہاں بولو بیٹا ضرور کروں گی بولو . تو کہنے لگا انٹی کسی کو بتانا نہیں آپ دوست ہو نآ انٹی میرے ابا میری اماں کو بہت مارتے ہیں انھیں سمجھاؤ نا پلیز ....انھیں سمجھاؤ مت مارا کریں مجھے ہرٹ ہوتا ہے انٹی ..ابا کہتے ہیں کسی کو گھر کی بات مت بتانا یہاں کی پولیس بہت گندی ہے وہ بچوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے اور پھر کبھی بھی ملنے نہیں دیتی ماں باپ سے ... انٹی ائی لو مآ ئی ابا اماں میں انھیں نہیں چھوڑ سکتا انٹی آپ سمجھاؤ گی نا پلیز ....بچہ اپنی معصومیت میں وہ تمام راز اگل رہا تھا جسے نفسیاتی معالج ہفتوں سے سلجھانے میں لگے ہوے تھے اور جو اب میرے سر پر ہتھوڑے برسا رہے تھے .

ایسے میں دروازہ کھلا بچے کے والدین داخل ہوے اور بچہ ایک جست میں میری گود سے نکل کر دیوار کے ساتھ سہم کر جا لگا باپ نے مجھے دیسی بھانپ پر فورا کہا میڈم اس حرام زادی بس نے اتنی دیر لگا دی کہ نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے ادھر کہیں کوئی خالی کمرہ ملے گا نماز قضا نا ہو جائے طویل داڑھی اور لمبے سے کرتے میں ملبوس ایک پاکستانی مرد اور سر سے پاؤں تک برقعہ میں لپٹی نقاب پوش خاتوں کو اپنے سامنے دیکھ کر میں نے فورا خالی کمرے کی طرف اشارہ کر دیا دونوں نے نماز ادا کی اور پھر باہر اتے ہی مرد مجھ سے یوں مخاطب ہوا " آج سارا گناہ ان حرامی سکول والوں نے کما لیا میری نماز چھوٹتے چھوٹتے بچی ٹھیک ٹھاک تو ہے ہمارا بچہ نجانے ان حرامیوں نے مسلمانوں کو ہی ستانے کے کیا کیا طریقے نکال رکھے ہیں ..ادھر شکل دیکھتے ہیں پاکستانی کی کہ جھٹ سے گھیر لیتے ہیں کسی نا کسی بہانے اب دیکھو نا بھلا کیا ہوا ہے ہمارے بچے کو کچھ بھی تو نہیں مگر انہوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی پاگل ثابت کرنے کی " وہ ایک تواتر سے بولے چلے جا رہا تھا اور میں ایک عالم اضطراب میں تھی خود پر قابو پانے کی بھر پور کوشش میں تھی کہ غم و غصے سے شل دل و دماغ تمام تر پروفیشنلزم بھاڑ میں جھونک کر اس بے حس انسان کا گیریبان پکڑ کر جھنجوڑنے پر اکسا رہا تھا کہ دل چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر کہوں کہ اے ظالم انسان حرامی سکول والے نہیں تم خود ہو جو اپنی اولاد کی آنکھوں میں تڑپتا درد ذھن میں ابلتا لاوا نہ دیکھ پائے ...گناہ بس نے نہیں بلکہ خسارہ تو خود تم نے کمایا ہے غارت گئیں تمہاری یہ سب نمازیں اور عبادتیں کہ اے بد بخت انسان جو اپنے ہی تخم اپنی ہی نسل اپنی ہی اولاد کا نہ بن سکا وہ بھلا خدا سے کیا وفا نبھائے گا ؟ جو اپنے اہل و عیال پر رحم نہیں کرتا وہ آسمان سے رحم کا کیوں کر طالب ہو گا ؟

ایسے ہزاروں جذبات پر قابو پانے میں مگن تھی کہ ایسے میں بچے نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہلایا ، انٹی انٹی ائی ایم گوئنگ ... بائے انٹی اور جاتے جاتے اسکی آنکھوں میں وہی التجا تھی اور سوالیہ چہرے پر امید کی ایک کرن بھی . اور میں ذہنی طور پر ایک اذیتناک کفیت سے دوچار تھی آنکھوں میں اتے آنسو روکنے کی کوشش کرتے اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھتے سوچ رہی تھی کہ اب کیا جواب دوں اس ننھے فرشتے کو کہ یہاں اس دلدل میں تم اکیلے نہیں تمہارے جیسے ہزاروں معصوم اور بھی ہیں .... اب میں کس کس کے باپ کو سمجھاؤں ؟ .. اور کس کس کی ماں کے دکھوں کا مداوا کروں ؟ اور کس کس معصوم کو ذہنی الجھنوں کے اس گرداب سے نکالوں ؟

گھریلو تشدد اور ہمارے رویے

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین