درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

  • پی ڈی ایف

برطانیہ میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے میں تین مسلمانوں کو ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسا تحریری مواد تقسیم کیا جس میں کہا گیا تھا کہ معاشرے کو ہم جنس پرست خواتین اور مردوں سے چھٹکارا دلوانے کے لیے سزائے موت جائز ہے۔انہیں اس نئے انگلش قانون کے تحت قصوروار پایا گیا جس میں لوگوں کے جنسی میلان کی بناء پر ان سے نفرت کرنے پر ابھارنا ایک جرم ہے۔

تو ادھر انڈونیشیا میں اس شخص کو جیل بھیجے جانے کا امکان ہے جس نے اپنی فیس بک پر لکھا تھا کہ خدا کا وجود نہیں ہے۔اکتیس سالہ سرکاری ملازم الیگزینڈر آن نے فیس بک پر خدا کا انکار کرنے والے ایک گروپ کے صفحہ پر متنازعہ جملہ لکھا تھا جس کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا تھا۔ آن اب پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ آن کو سوشل نیٹورکنگ کی ویب سائٹ پر پنی رائے کا اظہار کرنے کی پاداش میں نوکری سے بھی فارغ کر دیا جائے۔انڈونیشیا کے بنیادی قوانین کے تحت لادینیت جرم ہے۔ جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کرشنا واسوامی نے بتایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں اسلام کے علاوہ پانچ دیگر مذاہب کو تسلیم کیا جاتا ہےپولیس کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین کے تحت کسی بھی دوسرے شخص کو مذہب سے روکنے کی سزا پانچ سال قید ہے۔آن کے حامیوں نے فیس بک کے اسی صفحہ پر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جہاں انہوں نے لکھا تھا کہ خدا کا وجود نہیں ہے۔

خدا اور نبی کی یہ اجارہ داری ایک اندھی جہالت اور مذہبی جنونیت کا روپ لئے کمبل کی مانند لپٹی ہوئی ہے نہ ہم اسے چھوڑنا چاہتے ہیں نہ ہی وہ ہمیں . ایک طرف اسلام کو امن کا مذہب قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف امن و امان کی دھچیاں اسی اسلام نے نام پر انتہائی ڈھٹائی سے اڑا دیتے ہیں ایک طرف رسول کو محسن انسانیت کے نام سے پکارتے ہیں تو دوسری طرف انسانیت ہی کے چیتھڑے انتہائی بیباکی سے اسی رسول کے نام پر اڑاتے ہیں . منافقت کی انتہا تو یہ ہے کہ ایک طرف خدا سے محبت کا دم بھرتے تو دوسری طرف اس کی مخلوق سے نفرت کی تمام تر حدیں پار کر گذرتے ہیں . ہم جنس پرستی اور لا دینیت انسانی معاشروں میں روز اول سے ہی رائج ہےمذہبی سطح پر اس کی مذمت کئے جانا اخلاقیات کے زمرے میں ضرور آتا ہے مگر ڈنڈے کے زور پر اسطرح شریعت نافذ کرنا انسانیت کی حدود سے قطعا باہر ہے کہ انبیا اور رسولوں کو بھی فقط نصیحت کرنے کی ہی غرض سے بھیجا گیا تھا داروغہ بنا کر ہر گز نہیں .

یہ کون سا وطیرہ ہے جو ہم نے اپنا رکھا ہے کہ اختلاف رائے پر جھٹ سے ڈنڈے اٹھا لو اور الزامات کا جواب دلائل سے دینے کی بجاے گردنیں اتارنے لگو. سلمان رشدی نے کتاب کیا لکھی تمام مسلم ممالک نے اس کی کتاب کی خرید و فروخت پرصرف بین ہی نہیں لگایا دھواں دھار قسم کے جوشیلے بھڑکیلے بیانات دینے کا سلسلہ چلا پر تشدد مظاہروں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ چلا ملکی املاک کو توڑا پھوڑا گیا بہت سی جان و مال کو نقصان پہنچا سلمان رشدی کا تمام تر مسلمان ممالک میں داخلہ بند کر دیا گیا اور پھر بلا آخر سلمان رشدی کے سر کی قیمت مقرر کر کے ان سب کے سب پر جوش صاحب ایمان و محبان رسول کے ایمان کو تقویت مل گی ابلتا جوش ٹھنڈا پر گیا گویا کہ ایمان اب محفوظ ہو گیا . اور ادھر سلمان رشدی جیسی گمنام شخصیت اس رد عمل پر ایک متنازعہ شخصیت بن کر ابھری اس کی جان کی حفاظت کے لئے حفاظتی دستے متعین کر دئے گئے اور اس کی بین شدہ کتاب یورپ اور امریکا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن کر ابھری اور سلمان رشدی کو نوبل انعام دلوا گی .قصہ مختصر سلمان رشدی کے سر پر نوبل انعام کا یہ تاج کسی اور نے نہیں بلکہ خود مسلمانوں نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے سجایا .

پھر ارشاد مانجی اعیان حرسی علی کے چہرے ابھرے ایجنڈا انکا بھی وہی تھا اور مسلمانوں کا جاہلانہ رد عمل بھی وہی رہا گویا کہ نہ وہ بدلے نہ ہمارے طور اور مسلمان خود اپنے ہی ہاتھوں سے ایک ایک اسلام مخالف تحاریک کو کامیاب کرتے رہے اور آج اسلام مخالف تحاریک کا ایک بازار گرم ہے . اب کس کس کے سر کی قیمتیں مقرر کریں گے ؟کن کن کے داخلوں پر پابندیاں لگایں گے؟ اور کس کس پر شور مچائیں گے ؟؟ کبھی فیس بک پر پابندیاں کبھی کارٹون کی اشاعت پر انٹرنیٹ کے خلاف مظاہرے کبھی خدا کو ڈنڈے کے زور پر منانے کے ارادے تو کبھی ہم جنس پرستوں کی گردنیں اڑانے کے دعوے روز کوئی نیا ہنگامہ روز کوئی نیا تماشا .

خدا اور رسول کا جتنا تماشا خود آج مسلمانوں نے بنا رکھا ہے کوئی اور بھلا کیا بنا سکے گا ؟ علم کی دولت سے پیدل مذہبی تعلیمات سے بے بہرہ کروڑوں کی تعداد میں ان بندروں نے خود اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے کوئی دوسرا کیا پہنچا پائے گا ؟ اس حقیقت پر کسی بھی شک کی گنجایش نہیں کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے لیکن ساتھ ساتھ اس تلخ حقیقت کا بھی دنیا بھر کو سامنا ہے کہ اس بہترین مذہب کے پیروکار بد ترین انسان ہیں . جو اتنی سادہ سی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خدا اسکے رسول اور اسلام کو ہمارے تحفظ کی ضرورت ہرگز نہیں کہ ہماری ان عبادتوں نمازوں روزوں اور قربانیوں کی خدا کو ہرگز ضرورت نہیں وہ اپنا تحفظ خود کرنا با خوبی جانتا ہے اور جو خود اپنی پیدایش کا مقصد یعنی کہ انسان ہونے کا حق ادا کرتے ہوے انسانیت کی حفاظت نہ کر پائیں وہ بھلا خدا اور اسکے رسول کی حفاظت کیونکر کر پائیں گے ؟ کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

اپنا تبصرہ شامل کیجیے


کونسی آزادی کیسا جشن ؟
عفاف اظہر
article thumbnail

آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ]


ڈوبتی ناؤ
عفاف اظہر
article thumbnail

پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں  [ ... ]


مزید مضامین