ایمن فاونڈ یشن کے زیر انتظام غیرت کے نام پر قتل کے مو ضو ع پر پہلا سیمینار بروز ہفتہ چودہ جنوری دو ہزار بارہ کو دوپہر دو بجے سے شام پانچ بجے تک سکاربورو سوک سنٹر کے کونسل چمبر میں کامیابی سے ہوا جس میں متعدد افراد جن میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انڈین ہندو سکھ اور بعض دوسرے کلچرز کے افراد نے بھی شرکت کی.
پروگرام کا آغاز ایمن فا و نڈ یشن کی روح رواں عفاف اظہر کی جانب غیرت کے نام پر قتل جیسے غیر انسانی افعال کے معاشرے میں بڑھتے رجحان اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے اس ادارہ نو ایمن فا و نڈ یشن کے قیام اور اغراض و مقاصد پر ایک تعارفی تقریر سے ہوا جس میں بچوں کے حقوق کی جانب دنیا بھر میں پائی جانے والی لا تعلقی پر ایک مختصر نظر ایمن سہیل کی جانب سے اور انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے دنیا بھر میں بچوں پر ہوتی طرح طرح کی زیادتیوں اور لاپرواہیوں کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ شہلا سہیل کی جانب سے پیش کی گئی.
پروگرام میں مہمان مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ مو ڈ ریٹر کے فرائض بھی ڈاکٹر خالد سہیل نے انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کئے.مسلمان انڈین کمیونٹی کی جانب سے امبیشن نیوز کی ایڈیٹر اسما وارثی نے غیرت کے نام پر لکھی گئی اپنی ایک حالیہ نظم پڑھ کر سنائی اور پھر مہمان مقرر ڈاکٹر فرزانہ حسن نے کنیڈا میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے رجحان اس کے عوامل اور ایسے غیر انسانی اقدامات کے پیچھے کار فرما شدت پسند معاشرے پر ایک زور دار لیکچر دے کر سا معین میں خوب جوش بھڑکایا جس سے آزادانہ رائے زنی ، سوال و جواب اور گرما گرم بحث و مباحثہ کی ایک دلچسب نشست کے نا ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا جس میں جہاں سا معین نے بے پناہ جوش اور ولولے سے حصہ لیا وہاں بچوں نے بھی بھر پور حصہ لیا .. محفل میں اس متنازعہ سماجی مسلے پر بھڑکتی مذہبی جوش و جنوں کی گرم ہوا کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے ڈاکٹر خالد سہیل بیحثیت مو ڈ ریٹر کمال مہارت سے اپنے ماہرانہ نفسیاتی حربے استعمال کرتے اور ماحول کو خوشگوار بناتے رہے.
پروگرام کے اختتام پر عفاف اظہر نے حاضرین کو موجودہ سماجی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے تمام تر غیر انسانی معاشرتی قدروں پر سولیاں چڑھتی ان انسان جانوں کی اہمیت جگانے میں ایمن فا و نڈ یشن کی جانب سے ایک عزم کا اظہار کیا اور ساتھ ساتھ ایمن فا و نڈ یشن کی جانب سے تمام معزز سا معین مقررین ڈاکٹر خالد سہیل ، ڈاکٹر فرزانہ حسن ، اسما وارثی کے ساتھ ساتھ پرویزصلا ح الدین اور فیلمی آف ہارٹ منیر سامی آف اردو رایٹر فورم اور بطور خاص اپنے ایک ننھے منے مہمان سرمد رفیح کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جس کے معصوم سے سوالوں نے محفل میں موجود با شعور ذہنوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا کا شکریہ ادا کرتے ہوے اس کامیاب و دلچسپ نشست کا اختتام کیا .
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
| کونسی آزادی کیسا جشن ؟ عفاف اظہر آزادی ... تو آج بھی اسی خواب کی مانند ہے جو کبھی مفکر ملت علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد ا عظم کا اس خواب کو تعبیر کا روپ دینے میں کیا کردار تھ [ ... ] |
ڈوبتی ناؤ عفاف اظہر پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے لیے ملک میں نیا سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ایک چیلنج سے کم نہیں [ ... ] | مزید مضامین | ||