دل سے

آتے ہیں غیب سے

یہ مضامیں خیال میں

سوشل نیٹ ورک کی ضرورت

سوشل نیٹ ورک کی ضرورت

فطری طور پر انسان ایک سوشل اینمل ہے . یعنی کہ ایک سماجی مخلوق . ہر انسان زندہ رہنے کے لئے اپنے سماجی دائرے بناتا اور پھر فکر کی بدولت انھیں بدلتا بھی رہتا ہے ..کل تک ہمارے معاشرے کے مرد حضرات اسی سوشل نیٹ ورک کی ضروت کی غرض سے اپنی گلی محلوں ، چوراہوں بازاروں میں ڈیرہ جماتے تھے . . تو خواتین جنسی تعصب کی حائل ایک بڑی خلیج کے سبب محلے میں ایک دوسرے کی تانکا جھانکی ، چغلی بخلی پر ہی گزارا کر لیتی تھیں ... جہاں .وہی افکار کا بانجھ پن وہی سوچ کی تنزلی اور سماجی تنگ نظری ایک دوسرے سے ٹکراتے ضرور تھے مگر ایک دوسرے کو ہم خیالی کی اڑ ان بھرنا سیکھنے اور سیکھانے کی بجائے مزید حبس اور گھٹن کا سبب بن جاتے تھے ..اب سوچئے کہ اگر ہماری ارد گرد کی فضا میں مسلسل حبس اور گھٹن ہو...

سوال میری نسل کا ؟

سوال میری نسل کا ؟

  آج بھی روزمرہ کے اسی تسلسل سے کام نپٹانے کی کوشش میں تیزی سے اپنے زیر نگرانی آئے نئے کیسیز کی فائلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک فائل پر لکھے نام پر جونہی نظریں پڑیں تو ٹھٹھک کر رہ گئیں . عثمان عمر بائیس سال.. ساتھ دماغی امراض کے ہسپتال کی رپورٹس جہاں وہ زیر علاج ہے . نجانے کیوں اس نام پر میرے دل میں ایک بیکلی سی پیدا ہوئی . اور میں باقی سبھی فائلیں وہیں چھوڑ کر اسی کی تفصیلات پڑھنے میں لگ گئی .. یونہی پڑھتے پڑھتے جونہی میری نظروں کے سامنے جب اسکے پرائمری سکول کا نام آیا تو اپنی اس بیتابی کی وجہ بھی فورا ہی سمجھ میں آ گئی ...اورپھر مجھ سے رہا نہ گیا سبھی کچھ وہیں ادھورا چھوڑا اور جیسے تیسے بھاگتی ہوئی ذہنی امراض کے اس ہسپتال کی طرف روانہ ہوئی ... راستے بھر عثمان کا چہرہ یاد آتا اور...

دیا

دیا

        آج پھر کام پر پہنچتے ہی آفس میں اپنے سامنے پڑی میز پر فائلوں کا ڈھیر دیکھ کر سمجھ گئی کہ آج کا دن بھی مصروف دنوں میں سے ایک ہے . ہمیشہ کی طرح ان ضروری اور اہم فائلوں کو الگ کیا جنہیں فوری توجہ درکار تھی . کچھ گھریلو تشدد کے کیسیز اور نومولود بچوں کے ایڈاپشن کی فائلیں ایسی تھیں جنہیں ہر صورت میں آج ہی آج روانہ کرنا تھا اور کچھ میڈیکل رپورٹس ایسی تھیں جو ابھی بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکیں تھیں جسکے لئے مجھے کچھ ہسپتالوں کی طرف جانا ضروری ہو گیا . کام ختم کرتے ہوئے ایک ہسپتال سے واپس لوٹتے کسی روم کے پاس سے گزر رہی تھی کہ اس سنسان سے ماحول میں کسی خاتوں کے سسکنے کی آواز سے میرے چلتے قدم ٹھٹھک کر رک سے گئے. . ہچکیاں لیتے ہوئے وہ شائید کسی سے آہستہ آہستہ فون پر بات...

چھلکا

چھلکا

کل میری سوچ کا محور ایک دلچسپ موڑ پر آ کر ٹھہر گیا . جب میرے ایک دوست نما کولیگ جانسن نے آفس میں فون کر کے مجھ سے کچھ لمحوں کا وقت مانگا کہ وہ مجھے کسی سے ملوانا چاہتا تھا .. حسب وعدہ وہ آیا ساتھ ایک خاتوں تھیں. ہیلو ہائے ہونے پر جب اسنے خاتوں کا تعارف اپنی بیگم کہ کر کروایا تو مجھے حیرت کا ایک جھٹکا سا لگا اور پھر کافی دیر لگی خود کو حیرانگی کے اس عالم سے نکالنے میں.. شائید اس لئے کہ میں بھی اس بظاہر ایک دوسرے سے مکمل طور پر متضاد دیکھائی دینے والے جوڑے کو قبول کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھی ... جسکی وجہ وہ سبھی تصورات کی بلند و بالا عمارات تھیں جو گزشتہ آٹھ سال اکٹھے کام کرنے کے دوران جانسن کے اپنی بیوی کے لئے احساسات اور خیالات نے میرے ذھن...

حرا م کے بچے

حرا م کے بچے

آج کام سے واپسی پر سٹشن پر کھڑی ٹرین کی منتظر تھی. کہ میرے سامنے کھڑا ایک گورا جو مجھے کچھ دیر سے ٹکٹکی باندھ کر یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش میں ہو . پھر قریب آ کر بولا تم نے مجھے پہچانا نہیں میں روجر ہوں .. میں عجیب سی کشمکش میں تھی کہ آواز اور شکل تو کچھ جانی پہچانی تھی مگر حلیہ نہیں . لمبی داڑھی، سفید جبہ سر پر ٹوپی ہاتھ میں تسبیح ....روجر میں نے عقل کا گھوڑا بہت بار ادھر ادھر دوڑایا مگر ناکام رہی . وہ میری پریشانی سمجھتے ہوئے بولا .. تمہیں یاد نہیں کچھ سال پہلے تم سے فلاں فلاں سلسلے میں میری ملاقات ہوئی تھی . ..اوہ یاد آیا ہاں ہاں ...روجر تم ؟؟ مگر یہ کیا حلیہ اپنا رکھا ہے تم نے کیا ہوا ؟ میں مسلمان ہو گیا ہوں ایک سال ہوا ... اچھا..کیسے ؟ کب...

میں اور میرا قلم

میرا یہ قلم دوسروں کو جگانے کے لئے نہیں بلکہ خود میرے جاگنے کا ثبوت ہے .کہ میں دوسروں کو سدھارنے یا معاشرے کی منافقت دور کرنے کے ارادے سے نہیں بلکہ خود کو اپنے ارد گرد پھیلی اس منافقت ، ہر طرف چھائی بے ضمیری اور مقام مردگی کی حد تک آئی بے حسی سے محفوظ رکھنے کےلئے لکھ رہی ہوں ....

عفاف اظہر

تازہ بلاگ

شوق اور ضرورت

لکھنا اگر فقط شوق کی خاطر ہو تو مو ضوع تلاش کرنے پڑتے ہیں .. اور اگر ضرورت ہو تو پھر موضو ع خود قلم کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں .........

نفسیاتی انسیت

ہاتھی  کے بچے کو پیدا ہوتے ہی پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر کہو کہ اسکی حفاظت اسی میں ہے تو پھر وہ بھاری بھرکم ہاتھی بن کر بھی ان بیڑیوں...

ایمرجنسی

آج صبح آفس جاتے ہی کچھ دوستوں سے رات کو پیش آنے والا پر لطف واقعہ سننے کو ملا ... رات کو کچھ آن ڈیوٹی دوستوں کو ایمرجنسی کال ملی...

آبادی کا ایٹم بم

آج صبح پاکستان سے ایک فون آیا جس نے بہت دکھی کر دیا .. ایک ایسے انتہا کے غریب خاندان کا جنہیں گزشتہ کچھ برسوں سے جانتی ہوں ... چھ...

جیو تو ایسے

یہودیوں میں ایک چیز کمال دیکھی ہے کہ یہ قوم کبھی بھی خود کسی کی مزدوری یا نوکری کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے لئے نوکریاں فراہم کرنا پسند کرتی ہے...

عفاف اظہر ایک حق گو جرنسلٹ ہیں. ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں بہت سے شاعر، ادیب اور کالم نگار نا انصافیوں کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، مصلحتوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں: حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا! ایسے دور میں عفاف اظہر جیسی قلمکار کا بے خوف خطر لکھتے رہنا اور سچائی کے لیے قربانیاں دیتے رہنا ایک معجزے سے کم نہیں. میں نے ان کے بہت سے ایسے کالم پڑھے ہیں جن میں انہوں نے عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی باتیں کی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے. میری نگاہ میں عفاف اظہر امن و آشتی کی پیغامبر ہیں. کاش ہماری قوم میں عفاف اظہر جیسی اور بہت سی دلیر جرنسلٹ ہوتیں.
خالد سہیل

عفاف اظہر، توبہ کیا لڑکی ہے!!! کہنے کو تین بچوں کی اماں مگر تحریر میں جبر کے خلاف جواں سال لڑکیوں کی سی تیزی اور بے چینی سے جھپٹتی اور وار کرتی ہوئی۔ اسکی تحریریں پڑھتے ہوئے بے ساختہ عدیم ہاشمی کا یہ شعر یاد آتا ہے؛ مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے مَیں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے ظاہری خوبصورتی کے حامل لوگوں کی ایک بدنصیبی یہ ہوا کرتی ہے کہ لوگوں کی بے جا تعریف انہیں ان کے تخلیقی وجود سے بے گانہ کردیتی ہیں۔سمجھ میں نہیں آتا کہ عفاف اس حربے سے کیسے بچ نکلی؟ اس کے اندر جو احتجاج اور بے چینی کا گرداب ہے ، معلوم نہیں کب اور کیسے پیدا ہوگیا۔وہ اپنے قلم میں سیاہی نہیں احتجاج کی روشنائی بھرتی ہے اور جب لکھنے بیٹھتی ہے تو اسکا قلم اس ماںکا روپ دھار لیتا ہے جسکے بچے خطرے میں ہوں۔ سوسائٹی کی منافقت، سماجی جبر اور نا انصافیوں نے اسے زود رنج بنا دیا ہے اور یہی زود رنجی اسے زود گوئی پر مجبور کرتی ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار اسکی تحریر میں ایک آدھ انچ کی کسر رہ جاتی ہے۔ وہ بلاشبہ بے پناہ امکانات کی مالک ادیبہ ہے، مگر ان امکانات کو اجالنے کے لیے اسے اپنے ذہن اور قلم کو صبر کی لگام سے تھامنا ہوگا۔ وہ اپنی افتاد طبع کی بنا پر دھیما چلنے سے قاصر ہے۔ عفاف نے اگر اپنا ایکسلیٹرجذباتی ردعمل کی بجائے سنجیدہ شعور کے ہاتھ میں تھما دیا تو اسکی تحریریں اسے امر کردیں گی۔
سعید ابراہیم

میں نے خواتین کو شاعری،افسانے،ناول یہاں تک کہ مزاح بھی لکھتے دیکھا مگر عفاف اظہر جو کچھ لکھتی ہیں وہ ان اصناف سے الگ ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے ایک نیا انداز متعارف کروایا ہے۔ عفاف اظہر کی شخصیت ہے ہی ایسی۔ وہ روایتی،بوسیدہ اصولوں کی پابند نہیں رہ پاتی ہیں ۔ وہ انسانیت کے بنیادی نکات سے انحراف نہیں کرتیں مگر ان نکات کو جدید دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ دیکھنا چاہتی ہیں ۔ وہ باغی نہیں ، مصلح ہیں۔ مذہب اور پرانی کھوکھلی روایات جن سے عورت یا بچوں کی تضحیک ہوتی ہو یا ان کے نشوونما پر منفی اثرات پڑتے ہوں ، ان کے خلاف ڈٹ کر دوٹوک لکھنا عفاف کے قلم کا کام ہے۔ مختصر اور برق رفتاری سے لکھنا عفاف اظہر کی عادت ہے۔ وہ خیالات کو اپنے اندر پالتی پوستی نہیں ہیں ، اس کام کیلئے انھوں نے تین بچے اور ایک شوہر رکھ چھوڑا ہے۔ وہ خیال کی وحی نازل ہوتے ہی دھم سے لکھتی اور فٹ سے فیس بک پر پوسٹ کردیتی ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ کینیڈا سمیت کئی ممالک سے شائع اور نیٹ پر موجود اخبارات کیلئے بھی پابندی سے لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں مختصر اور دوٹوک ہوتی ہیں ۔ جس خبر سے ان کا دل دکھے ، اس دکھ کا تیز رفتار برملا اظہار اور احتجاج عفاف کا عین مشن ہے۔ آپ ظالم کو کبھی عفاف کے پہلو سے لگا نہیں دیکھیں گے چاہے وہ ظالم کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ مولوی اور مذہب عفاف کے پسندیدہ دشمن ہیں ۔ جہاں کسی نے مذہب کی آڑ لےکر کسی کو نقصان پہنچایا،عفاف کا قلم مظلوم کی دادرسی کیلئے وہاں پہنچ جاتا ہے۔ عورتوں اور بچیوں کے دکھ پر پھایا رکھنا کوئ عفاف کی تحریروں سے سیکھے۔ ان کی تحریروں سے لطف نہیں جوش آتاہے۔ وہ بلا کسی مذہبی ، جنسی اور لسانی تفریق کے حق لکھنا جانتی ہیں۔ عملی زندگی میں بھی عفاف اظہر قانون کی رکھوالی ہیں ۔ فیس بک پر انھیں ٹورنٹو پولیس کی وردی میں دیکھ کر اکثر لوگوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں ۔ فیس بک اور ان کی ویب سائیٹ کے ذریعے عفاف اظہر کی تحریروں نے کم عرصے میں بڑا نام کمالیا ہے ۔
مرزا یاسین بیگ

عفاف اظہر سے ایک بار اچٹتی سی ملا قات ہو ئی تھی ۔۔ اسکی سا دہ سی گفتگو میں تب بھی کو ئی نہ کوئی بات تھی جو اسکا نام میری سو چ میں محفو ط رہ گیا ۔۔ پھر کچھ عر صہ پہلے اس کی ایک تحریر نے خو د کو پڑھوا کے چھو ڑا اور اس کے بعد یہ سلسہ مسلسل ہو گیا کہ وہ جب سا منے ا تی جیسے اپنے مقام پر ڈٹی ہو ئی کھڑی نظر آ تی ۔۔ یہ حو صلہ اس میں کہا ں سے آیا کیسے آ یا میں نہیں جا نتی مگر اتنا جا نتی ہوں کہ اس بہ ظا ہر پرسکون ندی کے اندر کیسی پرشور لہریں پیچ و تا ب کھا رہی ہیں کیسا وہ سا رے خس و خا شا ک بہا لیجا نے کو بے تا ب ہیں ۔ عفاف ایک دلیر لکھا ری ہے ۔ جو محسو س کر تی ہے جو دیکھتی جس بات پر کڑھتی ہے وہ سب ویسا ہی لکھ دیتی ہے ۔ وہ زنگ کا زردہ بنا کے چا ندی کے ورق سے اس تھال کو نہیں سجا تی ۔۔عفا ف نے بہت خا ردار راستہ چنا ہے اپنے لئے ۔۔ اور میں جا نتی ہوں کہ اس کے تلوے لہولہان ہو نگے ان پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے ۔۔ مگر اس کے الفا ط کا اعتماد یہ بھی یقین دلا تا ہے کہ وہ تھک کے واپس لوٹ جا نے والوں میں نہیں ہے۔ چلتی رہو عفا ف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے مڑ کے مت دیکھنا ورنہ پتھر کی ہو جا ئو گی ۔
نسیم سید

عفاف اظہر آپ کا خیال ہے کہ آپ دل سے لکھ رہی ہیں مگر میرے خیال میں آپ جلتے ہوئے کوئلوں سے لکھ رہی ہیں . آپ کے لکھے ہوئے الفاظ دہکتے ہوئے انگارے ہیں جو صدیوں پرانے ، سماجی اور تہذیبی رو ا یتوں کے بوسیدہ کتب خانے کو نہ صرف جلا کر راکھ کر رہے ہیں بلکہ اکیسویں صدی کے اس نئے سماجی اور سائنسی معاشرے کی کتاب کے لئے تازہ صفحات بھی فراہم کر رہے ہیں . جو رنگ نسل یا مذہب کے حلقوں میں بٹی ہوئی بیڑیوں کی بجائے ایک عالمی انسانی تصور حیات پر مبنی آزاد معاشرے کے خواب سمیٹے ہوئے ہیں . آپ کی تحریریں پڑھ کر مجھے یکایک لگا جیسے جو بات میں استعاروں کی صورت افسانوں میں اتارتا رہا ہوں وہ آپ صحافتی انداز سے پوری جرات اور یقین سے مضامین اور کالمز کی شکل میں لکھ رہی ہیں . آپ کی تحریر کا کھرا اور کڑوا سچ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ذہنوں کی سخت بنجر زمین کو ذرخیرز کرنے کے لئے لفظوں کا کدال کی طرح تیز اور قلم کو پل کی طرح طاقتور ہونا چاہئے .
بلند اقبال

JoomShaper